Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۱؎ یہ معنی بہت موزوں ہیں کیونکہ بکری ایک سال سے کم،گائے دو سال سےکم اور اونٹ پانچ سال سےکم کا جائزنہیں ان عمروں میں ان سب جانوروں کا نام مسنہ ہوتاہے۔بھیڑ کا چھ۶ماہ کابچہ اگرموٹا تازہ ہوجو ایک سال کی بکریوں سےمل جائےتو قربانی جائز ہے۔خیال رہے کہمعز بکری،بھیڑ،دنبہ سب کو شامل ہے،غنم صرف بکری کا نام ہے اور ضان بھیڑ اور دنبہ کا۔اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ ایک سال کی بکری کی قربانی چھ۶ مہینہ کی بھیڑ کی قربانی سے افضل ہے۔مرقاۃ نے یہاں فرمایا کہ افضل قربانی اونٹ کی ہے،پھر گائے کی،پھر بکری کی،پھربھیڑ کی۔

1456 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ غَنَمًا يقسمها على صحابته ضحايا فَبَقيَ عتود فَذكره لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «ضَحِّ بِهِ أَنْتَ» وَفِي رِوَايَةٍ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أصابني جذع قَالَ: «ضح بِهِ»

روایت ہےحضرت ابن عامرسے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ بکریاں صحابہ میں قربانی کے لیئے تقسیم فرمانے کو دیں ۱؎ تو ایک شش ماہیہ بکری کی بچی اس کا ذکرحضور انورصلی اللہ علیہ وسلم سے کیا آپ نے فرمایا اس کی قربانی تم کرلو۔ایک روایت میں ہےکہ میں نے عرض کیا یارسول اﷲ مجھے چھ ماہ کا ملا فرمایا قربانی کرلو ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ معلوم ہوا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ میں قربانی کے جانورتقسیم فرماتے تھے لہذا اب بھی اگر کوئی امیرلوگوں میں جانورتقسیم کرے اورلوگ اس کی قربانی کریں توجائزہے۔

لطیفہ:اس زمانہ کی قربانی بندکرنے والوں نے حکومت پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بزورحکومت ملک میں قربانی بند کرا دے۔ہم مؤدّبانہ اہلِ حکومت سےعرض کرتےہیں کہ وہ ہر سال اپنے بجٹ سےقربانی کے جانورمسلمانوں میں تقسیم کیاکرے اس کے لیئے ایک فنڈ رکھے کیونکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی بندنہیں کی تقسیم کی ہے۔

۲؎ عتود چھ ماہہ بکری کو بھی کہتے ہیں اور چھ ماہہ بھیڑ کو بھی یہاں بکری مرادہے اسی لیئے حضرت عقبہ نے تعجب سے پوچھا کہ میں یہ قربانی کیسے کروں،نیز ابوبردہ کی روایت میں ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ قربانی صرف تمہیں جائز ہوگی اوروں کو نہیں،یہاں شیخ نے اشعہ میں فرمایا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو احکام شرعیہ سپرد کردیئے گئے جس پر جو چاہیں حکم جاری فرمادیں یعنی آپ بعطائے الٰہی  مالک احکام ہیں۔اس کی تحقیق ہماری کتاب "سلطنت مصطفٰی"میں دیکھو۔

1457 -[5]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْبَحُ وَيَنْحَرُ بِالْمُصَلَّى. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ میں ذبحہ ونحر فرماتے تھے ۱؎(بخاری)

۱؎ تاکہ لوگوں کو قربانی کا طریقہ آجائے اور قربانی شائع ہوجائے۔خیال رہے کہ یہ عیدگاہ مدینہ پاک تھی نہ کہ مکہ معظمہ کی کیونکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ معظمہ میں نہ کبھی عید پڑھی نہ عید کی قربانی کی۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جوکہتے ہیں کہ قربانی صرف مکہ معظمہ میں ہے۔

1458 -[6]

وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْبَقَرَةُ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْجَزُورُ عَنْ سَبْعَةٍ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَبُو دَاوُدَ وَاللَّفْظُ لَهُ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گائے سات کی طرف سےہے اوراونٹ سات کی طرف سے ۱؎(مسلم وابوداؤد)لفظ ابوداؤد کے ہیں۔

 



Total Pages: 519

Go To