Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۱؎ ایک اپنی طرف سے اور ایک اپنے غریب امتیوں کی طرف سےجو قربانی پرقادر نہ ہوں جیساکہ آگے آرہا ہے۔ایک قربانی سارے غریبوں کی طرف سے کافی ہونا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک سجدہ ان شاءاﷲ تعالٰی ہم جیسے لاکھوں گنہگاروں کا بیڑا پار لگائے گا۔قربانی اگرچہ ایک ہے مگر کس کی ہے جو ساری مخلوق میں یکتا ہے۔

۲؎ اس طرح کہ جانورکو قبلہ رولٹاکر اپنا داہنا پاؤں اس کے داہنے کندھے پر رکھا،بائیں ہاتھ سے اس کا سرپکڑا اور داہنے ہاتھ سے چھری چلائی۔خیال رہے کہ ذبح پر بِسْم اﷲ کہنا فرض ہے اور وَاﷲُ اَکْبَرْ کہنا مستحب اور اس وقت درود شریف پڑھنا ہمارے ہاں مکروہ ہے،امام شافعی کے ہاں سنت۔(مرقاۃ)بہتر یہ ہے کہ جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرے اور اگر ذبح کرنا نہ جانتا ہو تو ذبح اور سے کرائے مگر سامنے موجود ہونابہتر ہے۔

1454 -[2]

وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ يَطَأُ فِي سَوَادٍ وَيَبْرَكُ فِي سَوَادٍ وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ فَأُتِيَ بِهِ لِيُضَحِّيَ بِهِ قَالَ: «يَا عَائِشَةُ هَلُمِّي الْمُدْيَةَ» ثُمَّ قَالَ: «اشْحَذِيهَا بِحَجَرٍ» فَفَعَلَتْ ثُمَّ أَخَذَهَا وَأَخَذَ الْكَبْشَ فَأَضْجَعَهُ ثُمَّ ذَبَحَهُ ثُمَّ قَالَ: «بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ» . ثُمَّ ضحى بِهِ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہےحضرت عائشہ سے کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ والے بکرے کا حکم دیا جو سیاہی میں چلے،سیاہی میں بیٹھے،سیاہی میں دیکھے ۱؎ آپ کی خدمت میں حاضر کیا گیا تاکہ اس کی قربانی کریں فرمایا عائشہ چھری لاؤ پھر فرمایا اسے پتھر پر تیز کرلو،میں نے کرلیا پھر آپ نے چھری پکڑی اور بکرا پکڑکرلٹایا پھر اسے ذبح کیا پھر فرمایا بِسْم اﷲ۲؎ الٰہی  اسے محمدصلی اللہ علیہ وسلم و آل محمدصلی اللہ علیہ وسلم و امت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قبول فرما۳؎ پھر اس کی قربانی کی ۴؎(مسلم)

۱؎ یعنی اس کے پاؤں،سرین اور آنکھیں سیاہ ہوں باقی جسم پر کالے چٹے دھبّے۔

۲؎ یہ ثُمَّ رتبہ تاخیر کے لیے ہے نہ کہ واقعہ کی۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ذبح پہلےکرلیا اور بسم اﷲ بعد میں پڑھی۔(مرقاۃ) یا ذبح کے معنی ہیں ذبح کا ارادہ فرمایا۔(اشعہ)۔خیال رہے کہ جانورکولٹاکر یا اسے دکھاکر چھری تیز نہ کی جائے۔

۳؎ یعنی قربانی کے ثواب میں انہیں بھی شریک فرمادے۔اس سےمعلوم ہوا کہ اپنے فرائض و واجبات کاثواب دوسروں کو بخش سکتے ہیں اس میں کمی نہیں آسکتی۔یہ حدیث کھانا سامنے رکھ کر ایصال ثواب کرنیکی قوی دلیل ہے کہ بکری سامنے ہے اور حضور اس کا ثواب اپنی آل اور امت کو بخش رہے ہیں۔

۴؎ یعنی اس کاگوشت پکاکر لوگوں کی دعوت کی۔لغت میں ضحےٰ کے معنی ہیں دوپہر کا کھاناکھلانا،یہاں لغوی معنی میں ہیں۔

1455 -[3]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً إِلَّا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْن» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سال سے کم جانور ذبح نہ کرو مگر جب کہ دشوار ہو تو بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ ذبح کرو ۱؎(مسلم)

 



Total Pages: 519

Go To