Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1451 -[26]

عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنِ ابْن عَبَّاس وَجَابِر ابْن عَبْدِ اللَّهِ قَالَا: لَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَلَا يَوْمَ الْأَضْحَى ثُمَّ سَأَلْتُهُ يَعْنِي عَطَاءً بَعْدَ حِينٍ عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرَنِي قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنْ لَا أَذَانَ لِلصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ حِينَ يَخْرُجُ الْإِمَامُ وَلَا بعد مَا يَخْرُجُ وَلَا إِقَامَةَ وَلَا نِدَاءَ وَلَا شَيْءَ لَا نِدَاءَ يَوْمَئِذٍ وَلَا إِقَامَةَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے ابن جریج سے ۱؎ فرماتے ہیں مجھے عطاء نے حضرت ابن عباس اور جابر ابن عبداﷲ سے خبردی ان دونوں نے فرمایا کہ عید بقر کے دن اذان نہ کہی جاتی تھی پھر کچھ عرصہ بعد میں نےعطاءسے اس بار ے میں پوچھا۲؎ تو انہوں نے مجھے بتایا کہ مجھے جابر ابن عبداﷲ نے خبردی کہ عید کے دن امام کے نکلتے وقت اور نکلنے کے بعد نہ تونماز کی اذان ہے نہ تکبیر،نہ عام اعلان نہ کچھ اور چیزیعنی اس دن نداءہےنہ تکبیر ۳؎(مسلم)

۱؎ آپ کا نام عبدالملک ابن عبدالعزیز ابن جریج ہے،فقیہ ہیں،مکی ہیں،قرشی ہیں،اسلام میں پہلےمصنف ہیں،۱۵۰ھ؁ میں مکہ معظمہ میں وفات پائی،آپ خود بھی تابعی ہیں اور آپ کے والدبھی۔

۲؎  یعنی اس مسئلہ کی تفصیل پوچھی کیونکہ اجمالًا علم تو پہلے ہوچکا تھا۔

۳؎ حق یہ ہے کہ ان دونوں جگہ نداء سے مراد اذان ہی ہے اور یہ جملہ گزشتہ کی تفسیر ہے کیونکہ نماز عید کے لیے اعلان گولہ داغنا،توپ چلانا،نوبت پیٹنا بالاتفاق جائزہے،صرف اذان وتکبیرمنع ہے۔

1452 -[27]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْأَضْحَى ويم الْفِطْرِ فَيَبْدَأُ بِالصَّلَاةِ فَإِذَا صَلَّى صَلَاتَهُ قَامَ فَأقبل عل النَّاسِ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي مُصَلَّاهُمْ فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَة ببعث ذِكْرَهُ لِلنَّاسِ أَوْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِغَيْرِ ذَلِكَ أَمَرَهُمْ بِهَا وَكَانَ يَقُولُ: «تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا» . وَكَانَ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ ثُمَّ ينْصَرف فَلم يزل كَذَلِك حَتَّى كَانَ مَرْوَان ابْن الْحَكَمِ فَخَرَجْتُ مُخَاصِرًا مَرْوَانَ حَتَّى أَتَيْنَا الْمُصَلَّى فَإِذَا كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ قَدْ بَنَى مِنْبَرًا مِنْ طِينٍ وَلَبِنٍ فَإِذَا مَرْوَانُ يُنَازِعُنِي يَدَهُ كَأَنَّهُ يَجُرُّنِي نَحْوَ الْمِنْبَرِ وَأَنَا أَجُرُّهُ نَحْوَ الصَّلَاة فَلَمَّا رَأَيْت ذَلِكَ مِنْهُ قُلْتُ: أَيْنَ الِابْتِدَاءُ بِالصَّلَاةِ؟ فَقَالَ: لَا يَا أَبَا سَعِيدٍ قَدْ تُرِكَ مَا تَعْلَمُ قُلْتُ: كَلَّا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تأتون بِخَير مِمَّا أعلم ثَلَاث مَرَّات ثمَّ انْصَرف. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن تشریف لے جاتے تو نماز سے ابتداء کرتے جب نماز پڑھ چکتے تو لوگوں پرمتوجہ ہوتے لوگ اپنے مقام پر بیٹھے ہوتے اگر سرکار کو لشکر بھیجنے کی ضرورت ہوتی تو لوگوں سے ذکر فرمادیتے یا آپ کو اس کے سوا کوئی اور ضرورت ہوتی تو اس کا حکم فرمادیتے ۱؎ اور فرماتے تھے خیرات کرو خیرات کرو خیرات کرو زیادہ خیرات کرنے والی عورتیں ہوتی تھیں ۲؎ پھر آپ واپس ہوتے معاملہ یوں رہا حتی کہ مروان ابن حکم کا زمانہ آیا۳؎ تو میں مروان کی کمر میں ہاتھ ڈالے نکلا حتی کہ ہم عیدگاہ پہنچے تو دیکھا کہ کثیر ابن صلت نے کچی اینٹ و گارے کا منبر بنایا ہے۴؎ اورمروان مجھ سے اپنا ہاتھ کھینچنے لگا شاید مجھے منبر کی طرف کھینچتا تھا اور اسے میں نماز کی طرف کھینچتا تھا جب میں نے اس کی یہ حرکت دیکھی تو میں بولا کہ نماز سے ابتداءکرنا کہاں گیا وہ بولا نہیں اے ابوسعید جوتمہارے علم میں ہے وہ اب چھوڑ دی گئی ۵؎ میں نے کہا ہرگز نہیں اس کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے جو چیز میرے علم میں ہے تم اس سے بہتر کوئی چیز نہیں لاسکتے ۶؎(مسلم)

۱؎ یہ حدیث مع شرح پہلےگزر چکی۔پہلےعرض کیاجاچکا کہ نمازعیدین کے لیے نہ اذان ہے نہ تکبیر اور اس کا خطبہ بعد نماز ہوگا،اورعیدگاہ میں دینی کام کے انتظامات کئے جاسکتے ہیں۔

 



Total Pages: 519

Go To