$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1449 -[24]

وَعَن أبي الْحُوَيْرِث أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَهُوَ بِنَجْرَانَ عَجِّلِ الْأَضْحَى وَأَخِّرِ الْفِطْرَ وَذَكِّرِ النَّاسَ. رَوَاهُ الشَّافِعِي

روایت ہے حضرت ابوحویرث سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو ابن حزم کو لکھا ۱؎ جب کہ وہ نجران میں تھے کہ بقرعید جلدی پڑھو اورعیدا لفطر دیر سے اور لوگوں کو وعظ کرو ۲؎(شافعی)۳؎

۱؎ ابوالحویرث کو بعض نے صحابی ماناہے اوربعض نے تابعی۔صحیح یہ ہے کہ آپ تابعی ہیں،عمرو ابن حزم صحابی ہیں،انصاری ہیں، غزوہ خندق وغیرہ میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے،حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کے مشہور شہر نجران کا حاکم بناکربھیجا جب کہ آپ کی عمر صرف ۱۷ سال تھی۔

۲؎ وجہ ظاہرہے کہ عید کے دن فطرہ نماز سے پہلے دیاجاتاہے اور بقرعید کے دن قربانی نماز کے بعدہوتی ہے،نیز عید میں کھانا نماز سے پہلےکھایا جاتاہے اور بقرعید میں نماز کے بعد اس لیے نمازعید کچھ دیر سے پڑھنا بہتر ہے اور بقرعید جلدی۔خیال رہے کہ نماز عیدین کا وقت آفتاب چمکنے سے بیس منٹ بعد شروع ہوتا ہے،اور نصف النہار تک رہتا ہے۔

۳؎ خیال رہے کہ اس حدیث کی اسناد میں ابراہیم ابن محمدہیں جومحدثین کے نزدیک قوی نہیں،ابن حجر نے فرمایا کہ حدیث ضعیف ہے۔لیکن فضائل ومستحبات میں ضعیف حدیث قبول اورقابل عمل ہوتی ہےکیونکہ یہاں وقت مستحبہ کا ذکر ہے۔

1450 -[25]

وَعَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَكْبًا جَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْهَدُونَ أَنَّهُمْ رَأَوُا الْهِلَالَ بالْأَمْس ن فَأَمرهمْ أَن يفطروا وَإِذا أَصْبحُوا أَن يَغْدُو إِلَى مصلاهم. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِي

روایت ہے حضرت عمیر ابن انس سے ۱؎ وہ اپنے چچاؤں سے راوی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہیں کہ ایک قافلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا انہوں نےگواہی دی کہ انہوں نےکل چاند د یکھ لیا ہے حضور نے حکم دیا کہ روزہ افطارکرلیں اورکل صبح عیدگاہ چلیں۲؎(ابوداؤد،نسائی)

۱؎ آپ کا نام عبداﷲ ہے،انس ابن مالک کے بیٹے ہیں،انصاری ہیں،بہت کم عمر تابعی ہیں،اپنے والدحضرت انس رضی اللہ عنہ کے بعد بہت عرصہ زندہ رہے۔

۲؎  طحاوی،دارقطنی اور ابن ماجہ نے فرمایا کہ یہ گواہی بعد زوال ہوئی تھی اور انتیسویں۲۹ رمضان کو گردو غبار تھا،یہ حدیث امام اعظم کی بہت بڑی دلیل ہے۔نمازعید کا وقت زوال سے پہلے تک ہے نہ کہ شام تک کیونکہ اگر مغرب تک وقت ہوتا توحضورصلی اللہ علیہ وسلم آج ہی نماز پڑھادیتے۔خیال رہے کہ عیدالفطر کی نماز ایسے عذر میں دوسرے روز ہوسکتی ہے مگر تیسرے دن نہیں ہوسکتی،لیکن نماز بقرعیدتین روز تک پڑھی جاسکتی ہے دسویں،گیارھویں،بارھویں۔(کتب فقہ)

الفصل الثالث

تیسری فصل

1451 -[26]

عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنِ ابْن عَبَّاس وَجَابِر ابْن عَبْدِ اللَّهِ قَالَا: لَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَلَا يَوْمَ الْأَضْحَى ثُمَّ سَأَلْتُهُ يَعْنِي عَطَاءً بَعْدَ حِينٍ عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرَنِي قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنْ لَا أَذَانَ لِلصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ حِينَ يَخْرُجُ الْإِمَامُ وَلَا بعد مَا يَخْرُجُ وَلَا إِقَامَةَ وَلَا نِدَاءَ وَلَا شَيْءَ لَا نِدَاءَ يَوْمَئِذٍ وَلَا إِقَامَةَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے ابن جریج سے ۱؎ فرماتے ہیں مجھے عطاء نے حضرت ابن عباس اور جابر ابن عبداﷲ سے خبردی ان دونوں نے فرمایا کہ عید بقر کے دن اذان نہ کہی جاتی تھی پھر کچھ عرصہ بعد میں نےعطاءسے اس بار ے میں پوچھا۲؎ تو انہوں نے مجھے بتایا کہ مجھے جابر ابن عبداﷲ نے خبردی کہ عید کے دن امام کے نکلتے وقت اور نکلنے کے بعد نہ تونماز کی اذان ہے نہ تکبیر،نہ عام اعلان نہ کچھ اور چیزیعنی اس دن نداءہےنہ تکبیر ۳؎(مسلم)

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html