Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1446 -[21]

وَعَن جَابر قَالَ: شَهِدْتُ الصَّلَاةِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَامَ مُتَّكِئًا عَلَى بِلَالٍ فَحَمَدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَوَعَظَ النَّاسَ وَذَكَّرَهُمْ وَحَثَّهُمْ على طَاعَته ثمَّ قَالَ: وَمَضَى إِلَى النِّسَاءِ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَأَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى الله ووعظهن وذكرهن. رَوَاهُ النَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ میں عید کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں حاضر ہوا تو آپ نے خطبہ سے پہلے بغیراذان وتکبیرنماز شروع کی جب نماز پوری کرلی تو حضرت بلال پر ٹیک لگاکر کھڑے ہوگئے ۱؎ اور اﷲ کی حمدوثناءکی لوگوں کووعظ و نصیحت فرمائی اور انہیں رب کی اطاعت پر رغبت دی اور عورتوں کی طرف تشریف لے گئے آپ کے ساتھ بلال تھے۲؎ انہیں اﷲ سے ڈرنے کا حکم دیا اور انہیں وعظ و نصیحت فرمائی۔(نسائی)

۱؎ یعنی ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر خطبہ پڑھا نہ لاٹھی لی،نہ تلوارکمان وغیرہ یہ بھی جائز ہے۔

۲؎  اگر یہ واقعہ پردہ آنے سے پہلے کا ہے تو حضرت بلال بے حجاب عورتوں کے سامنے رہے اور اگر پردے کے احکام آنے کے بعد کاہے تو ظاہر یہ ہے کہ حضرت بلال اس طرح کھڑے ہوئے کہ نہ عورتوں کو آپ دیکھ سکے نہ عورتیں آپ کو۔سرکار کے عورتوں میں تشریف لے جانے کی وجہ پہلے عرض کی جاچکی ہے کہ مردوں کے وعظ میں بشارتیں زیادہ تھیں اورعورتوں کے وعظ میں ڈرانا زیادہ۔

1447 -[22]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ فِي طَرِيقٍ رَجَعَ فِي غَيْرِهِ.رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ والدارمي

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن جب ایک راستے سے تشریف لے جاتے تو دوسرے راستے سے لوٹتے ۱؎(ترمذی،دارمی)

۱؎ اس حدیث کی شرح اور راستہ تبدیل کرنے کی حکمتیں پہلے بیان ہوچکیں۔خیال رہے کہ عید کےدن امام اورتمام نمازی عیدگاہ کے راستے میں آہستہ تکبیرتشریق کہتے جائیں اور بقرعید میں بلند آواز سے،لیکن اگرعوام عیدمیں بلندآواز سے تکبیر کہیں تو منع نہ کروکیونکہ وہ پہلے ہی سے ذکراﷲ میں کم رغبت رکھتے ہیں۔(مرقاۃ)کسی نے امام اعظم سے پوچھا کہ لوگ بقرعید کے زمانہ میں بازاروں میں تکبیریں کہتے پھرتے ہیں،فرمایا مت روکو۔ذکر بالجہر کی پوری تحقیق ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول میں دیکھو۔

1448 -[23]

وَعَن أبي هُرَيْرَة أَنَّهُ أَصَابَهُمْ مَطَرٌ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِيدِ فِي الْمَسْجِدِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

روایت ہے انہی سے ایک بارعید کے دن بارش ہوگئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نمازعیدمسجدمیں پڑھائی ۱؎(ابو داؤد،ابن ماجہ)

۱؎ یعنی آپ ہمیشہ نمازعیدجنگل میں پڑھاتے تھے لیکن ایک بار بارش ہوگئی تو لوگوں کوجنگل جانابھی گراں تھا اور وہاں کوئی جگہ سایہ داربھی نہ تھی اس لیے مسجدنبوی میں عید پڑھائی گئی۔علماء فرماتے ہیں کہ ہمیشہ ہر جگہ نمازعیدجنگل میں پڑھنا بہتر ہے سوائے بارش کے،ہاں مکہ معظمہ میں یہ نماز بھی حرم شریف میں افضل،مسلمانوں کا اسی پر ہمیشہ سے عمل رہا،صحابہ اور دیگر علماء نے اس پرکبھی اعتراض نہ کیاحتی کہ نمازجنازہ،استسقاءوغیرہ بھی حرم شریف میں بلاکراہت جائز ہیں،دوسری مساجدمیں نماز جنازہ مکروہ ہے،امام سیوطی نے درالمنثور میں فرمایا کہ آدم علیہ السلام کی نمازجنازہ دروازہ کعبہ کے پاس پڑھی گئی۔(ازمرقاۃ)

1449 -[24]

وَعَن أبي الْحُوَيْرِث أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَهُوَ بِنَجْرَانَ عَجِّلِ الْأَضْحَى وَأَخِّرِ الْفِطْرَ وَذَكِّرِ النَّاسَ. رَوَاهُ الشَّافِعِي

روایت ہے حضرت ابوحویرث سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو ابن حزم کو لکھا ۱؎ جب کہ وہ نجران میں تھے کہ بقرعید جلدی پڑھو اورعیدا لفطر دیر سے اور لوگوں کو وعظ کرو ۲؎(شافعی)۳؎

 



Total Pages: 519

Go To