Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۱؎ چونکہ عورتوں کی صفیں مردوں سے پیچھے ہوتی تھیں اس لیےحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ کی آواز وہاں تک نہ پہنچتی تھی لہذا یہاں سے فارغ ہوکر ان میں جاکرعلیٰحدہ وعظ فرماتے تھے،انہیں خصوصیت سے صدقہ و خیرات کا حکم دیتے تھے جس کی وجہ اگلی احادیث میں آرہی ہے۔خیال رہے کہ یہاں صدقہ سے مراد فطرہ نہیں ہے کیونکہ وہ تونماز عید سے پہلےاداکیاجاتاہے،نیز ان بیبیوں نے یہ حکم سن کر اپنے زیور پیش کئے ہیں،اگر فطرہ یا زکوۃ ہوتی تو حساب سے دی جاتی۔غالب یہ ہے کہ یہ صدقہ اسلامی فوجوں کے لیے تھا۔

۲؎ یعنی حضورصلی اللہ علیہ وسلم صدقہ کا حکم دیتے اورحضرت بلال وصول کرتے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت بغیرخاوند کی اجازت خیرات کرسکتی ہے اپنے مال سے تو بہرحال اور خاوند کے مال سے جب جب کہ اسے عرفی اجازت ہو،یہ بھی معلوم ہوا کہ مسجدوعیدگاہ میں چندہ کرناجائزہے اور اپنے لیے سوال کرنا حرام،یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پردہ کرنا عورتوں پر فرض نہ تھا کیونکہ آپ ان کے لیےمثل والد کے تھے،حضرت بلال غالبًا اپنا منہ ڈھکے ہوتے ہوں گے۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ وعظ خطبہ نہ تھا،وہ تو ہوچکا تھا بلکہ نصیحت کے طور پرتھا،ان بزرگوں کی ڈبل عید ہوتی ہوگی ایک عید،دوسرے جناب مصطفٰے کی دید،صلی اللہ علیہ وسلم۔

1430 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمَ الْفِطْرِ رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهُمَا وَلَا بَعْدَهُمَا

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فطرکے دن دو رکعتیں پڑھیں نہ ان سے پہلے کوئی نماز پڑھی نہ ان کے بعد ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ اس حدیث کی بنا پرعلماء فرماتےہیں کہ نمازعیدسے پہلے نفل مکروہ ہیں حتی کہ اس دن اشراق والے اشراق بھی نہ پڑھیں،ہاں اگرکسی کی فجر قضاءہوگئی ہو تو وہ گھر میں قضاء پڑھے نہ کہ عیدگاہ میں۔فقہاء فرماتےہیں کہ قضاءنماز مسجد میں پڑھنا منع ہے تاکہ لوگوں پر اپنا عیب ظاہر نہ ہو۔

1431 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أُمِرْنَا أَنْ نُخْرِجَ الْحُيَّضَ يَوْمَ الْعِيدَيْنِ وَذَوَاتَ الْخُدُورِ فَيَشْهَدْنَ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَدَعْوَتَهُمْ وَتَعْتَزِلُ الْحُيَّضُ عَنْ مُصَلَّاهُنَّ قَالَتِ امْرَأَةٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِحْدَانَا لَيْسَ لَهَا جِلْبَابٌ؟ قَالَ: «لِتُلْبِسْهَا صَاحِبَتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا»

روایت ہے حضرت ام عطیہ سے ۱؎ فرماتی ہیں کہ ہم کو حکم دیا گیا تھا کہ ہم عیدوں میں حائضہ اور پردے والی عورتوں کو(عیدگاہ)لےجائیں۲؎ تاکہ وہ مسلمانوں کی جماعت اور دعاؤں میں حاضرہوں۳؎ حیض والیاں عیدگاہ سے الگ رہیں۴؎ ایک عورت نےعرض کیا یارسول اﷲ ہم میں سےبعض کےپاس چادرنہیں ہے فرمایا اس کی سہیلی اسے اپنی چادر میں سے اوڑھالے ۵؎(مسلم،بخاری)

۱؎ آپ کا نام نسیبہ بنت کعب یا بنت حارث ہے،کنیت ام عطیہ انصاریہ ہیں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت غزوات میں رہیں،زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں۔

۲؎ یعنی تمام عورتوں کو عیدگاہ لاؤ جونماز کے قابل ہیں وہ نمازعید پڑھ لیں اور جونماز کے قابل نہ ہوں وہ دعا میں شریک ہوں۔علماءفرماتے ہیں کہ عہدِ فاروقی سے عورتوں کومسجدوں وعیدگاہوں وغیرہ سے روک دیا گیا،حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ اگرحضورصلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کےموجودہ حالات ملاحظہ فرمادیتے تو آپ بھی منع فرمادیتے جب اس وقت یہ حال تھا



Total Pages: 519

Go To