Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۳؎ سبحان الله! ہماری مسجدیں اور عیدگاہ سیاست و عبادت کا مرکز تھیں،وہیں سے غازی بنتے تھے،وہیں سے نمازی۔مطلب یہ ہے کہ عیدگاہ میں ہی سپاہیوں کی بھرتی ہوجاتی اور وہاں سے ہی لشکر اسلام کی روانگی تاریخیں مقرر ہو جاتیں مگر یہ تمام کام خطبہ کے بعد ہوتے نہ کہ دورانِ خطبہ میں۔

1427 -[2]

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَيْنِ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَة. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سےفرماتےہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک دو عیدوں سے زیادہ پڑھیں بغیر اذان کے اور بغیرتکبیر کے ۱؎(مسلم)

۱؎ چونکہ امیرمعاویہ کے زمانہ میں زیادنےعیدین میں اذان شروع کردی تھی اس کی تردید کے لیے صحابہ کرام بارہا یہ فرمایاکرتے تھے تاکہ لوگ اس سے باز رہیں۔الحمدﷲ! کہ زیاد کی یہ بدعت چلی نہیں۔خیال رہے کہ اگر نمازعید کی اطلاع گولوں یا طبل یا اعلان سے کردی جائے کوئی مضائقہ نہیں،مگر اذان وتکبیر سوائے نماز پنجگانہ اور جمعہ کسی نماز کے لیے نہیں۔

1428 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ يُصَلُّونَ الْعِيدَيْنِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور جناب ابوبکروعمرعیدین کی نماز خطبے سے پہلے پڑھتے تھے ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ اگرچہ حضرت عثمان غنی وعلی مرتضی نے بھی یوں ہی عمل کیا مگر چونکہ یہ دو حضرات صحابہ کی نگاہ میں بہت ہی عظمت والے مشائخ میں سے تھے اس لیے خصوصیت سے ان کا ذکر کیا۔بعض شارحین نےسمجھا ہے کہ حضرت عثمان نے خطبہ نماز سے پہلے پڑھا،بعض نے کہا کہ خلافت عثمانی میں مروان نے یہ حرکت کی مگر اس کا ثبوت نہیں یونہی مشہور ہے ہاں مروان جب امیر معاویہ کی طرف سے مدینہ کا حاکم تھا تب اس نے ایسا کیا تھا اور وہ بھی اس لیے کہ بعدنماز لوگ خطبہ سنتے نہ تھے، جانے میں جلدی کرتے تھے پھربھی صحابہ نے اس پرسخت اعتراضات کیے آخر کار وہ طریقہ مٹ ہی گیا،اﷲ اپنے حبیب کی سنتوں کا حافظ ہے۔(ازمرقاۃ وغیرہ)

1429 -[4] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَسُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَشَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَ؟ قَالَ: نَعَمْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ وَلَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلَا إِقَامَةً ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَرَأَيْتُهُنَّ يُهْوِينَ إِلَى آذَانِهِنَّ وَحُلُوقِهِنَّ يَدْفَعْنَ إِلَى بِلَالٍ ثُمَّ ارْتَفَعَ هُوَ وَبِلَالٌ إِلَى بَيته

حضرت ابن عباس سےپوچھا گیا کہ کیا آپ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید میں حاضر ہوئے فرمایا ہاں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو نماز پڑھی پھرخطبہ دیا اذان اورتکبیر کا آپ نے ذکر نہ فرمایا پھر عورتوں میں تشریف لے گئے تو انہیں وعظ و نصیحت کی اور صدقے کا حکم دیا ۱؎ میں نےعورتوں کو دیکھا کہ اپنے کانوں اور گلے کی طرف ہاتھ بڑھاتیں اور بلال کی طرف زیور پھینک دیتیں پھر آپ اور بلال اپنے گھر واپس ہوتے ۲؎(مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 519

Go To