Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1425 -[6]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ بَيْنَ ضَجْنَانَ وَعُسْفَانَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: لِهَؤُلَاءِ صَلَاةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَبْنَائِهِمْ وَهِيَ الْعَصْرُ فَأَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ فَتَمِيلُوا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً وَاحِدَةً وَإِنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ أَصْحَابَهُ شَطْرَيْنِ فَيُصَلِّيَ بِهِمْ وَتَقُومَ طَائِفَةٌ أُخْرَى وَرَاءَهُمْ وَلْيَأْخُذُوا حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ فَتَكُونَ لَهُمْ رَكْعَةٌ وَلِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ

روایت ہےحضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم ضجنان وعسفان کے درمیان اتر ے ۱؎ تو مشرکین بولےکہ ان کی ایک نماز ہے جو انہیں اپنے باپ بیٹوں سےزیادہ پیاری ہےیعنی عصرتو اپنی طاقت جمع کرلو اوران پر ایک دم ٹوٹ پڑو ۲؎ ادھرحضرت جبرئیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے اور عرض کیا کہ اپنے صحابہ کو دو گروہوں میں بانٹ دیں انہیں اسی طرح نماز پڑھائیں کہ دوسرا ٹولہ ان کے پیچھے رہے جواپنا بچاؤ اور ہتھیار لیئے رہیں۳؎ ان سب کی ایک ایک رکعت ہوگی اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں۴؎(ترمذی،نسائی)

۱؎ ضجنان مکہ معظمہ کے پاس ایک پہاڑ ہے جس میدان میں یہ پہاڑ واقعہ ہے اس کوبھی ضجنان کہتے ہیں اورعسفان مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مشہور مقام ہے جو مکہ معظمہ سے دومنزل فاصلہ پر ہے،پہلے حجاج اسی رستہ سے مدینہ منورہ جاتے تھے۔

۲؎ یہ ان کا آپس کا مشورہ تھا یعنی یہ مسلمان مرنا قبول کرتے ہیں مگر اس نمازکو نہیں چھوڑتے،یہ راز یا تومنافقین نے انہیں بتایا ہوگا جومسلمان کی خبریں خفیہ طور پرمشرکوں کوبھیجتے رہتے تھے یاکسی اور ذریعہ سے انہیں پتہ لگ گیا ہوگا،اسی کو قرآن حکیم اس طرح بیان فرمارہا ہے:"وَدَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوْتَغْفُلُوۡنَ عَنْ اَسْلِحَتِکُمْ وَاَمْتِعَتِکُمْ فَیَمِیۡلُوۡنَ عَلَیۡکُمْ مَّیۡلَۃً وّٰحِدَۃً

۳؎ یعنی یہ دونوں جماعتیں الگ الگ تکبیرتحریمہ کہیں،پہلی جماعت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کہے اور دوسری جماعت دوسری رکعت میں۔بعض شارحین نے سمجھا کہ سب ایک ساتھ تحریمہ کہہ لیں مگر یہ قرآن کریم کی آیت کے خلاف ہے، رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلْتَاۡتِ طَآئِفَۃٌ اُخْرٰی لَمْ یُصَلُّوۡا فَلْیُصَلُّوۡا مَعَکَ"۔خیال رہے کہ ان کے پیچھے رہنے سے مراد دشمن کے مقابلے میں کھڑا ہونا ہے،لہذا حدیث واضح ہے۔

۴؎ یہ حدیث وہی ہے جوشروع باب میں آچکی،یہی ظاہر قرآن کے بہت موافق ہے اسی طریقہ کو امام اعظم ابوحنیفہ نے اختیار فرمایا۔الحمدﷲ! کہ باب کے شروع اور آخر کی حدیث مذہبِ احناف کی دلیل ہے۔


 



Total Pages: 519

Go To