$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۴؎ اس صور ت میں تمام مقتدیوں کو دونوں رکعتیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل گئیں اور سب تکبیرتحریمہ اور سلام میں امام کے ساتھ شریک رہے،یہ واقعہ مقام عسفان کا ہے اور نمازخوف کا یہ بھی ایک طریقہ ہے جب کہ دشمن جانب قبلہ ہو،مگر ترجیح پہلے طریقہ کو ہوگی کیونکہ وہی آیت قرآنی کے زیادہ موافق ہے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1424 -[5]

عَنْ جَابِرٌ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ صَلَاةَ الظُّهْرِ فِي الْخَوْف بِبَطن نخل فَصَلَّى بِطَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ جَاءَ طَائِفَةٌ أُخْرَى فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ. رَوَاهُ فِي «شرح السّنة»

روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بطن نخلہ میں نماز خوف پڑھاتے تھے ۱؎ تو آپ نے ایک ٹولہ کو دو رکعتیں پڑھائی پھر سلام پھیر دیا،پھر دوسرا ٹولہ آیا تو انہیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیرا ۲؎(شرح سنہ)

۱؎ یہ کَانَ یُصَلِّیْ ماضی بعید کےمعنی میں ہےکیونکہ ایک ہی ظہرحضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی پڑھائی،بطن نخل مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان ہے،فقیرنے وہاں کی زیارت کی ہے۔بعض نے کہا کہ بطن نخل نجد کے غطفان کا ایک حصہ ہے،بعض مؤرخین کہتے ہیں کہ بطن نخل مدینہ منور کا ایک باغ ہے،مگرصحیح یہ ہے کہ ان تینوں مقام کا نام بطن نخل ہے لیکن یہ واقعہ طائف کے راستہ کاہے۔

۲؎ امام شافعی اس حدیث کےمتعلق فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی بارفرض کی نیت کی،دوسری بارنفل کی،چونکہ ان کے ہاں نفل والے کے پیچھے فرض نماز ہوسکتی ہے اس لیے ان صحابہ کے فرض ادا ہوگئے۔احناف کہتےہیں کہ شروع اسلام میں ایک فرض نماز دوبار پڑھ لی جاتی تھی،یہ واقعہ اس وقت کاہےحضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں دفعہ فرض ہی پڑھائے،امام طحاوی نے اسی جواب کو اختیارکیایا یہ واقعہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے،ہرصحابی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پوری نماز پڑھنا چاہتے تھے تب حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل فرمایا۔(ازمرقاۃ)

الفصل الثالث

تیسری فصل

1425 -[6]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ بَيْنَ ضَجْنَانَ وَعُسْفَانَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: لِهَؤُلَاءِ صَلَاةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَبْنَائِهِمْ وَهِيَ الْعَصْرُ فَأَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ فَتَمِيلُوا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً وَاحِدَةً وَإِنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ أَصْحَابَهُ شَطْرَيْنِ فَيُصَلِّيَ بِهِمْ وَتَقُومَ طَائِفَةٌ أُخْرَى وَرَاءَهُمْ وَلْيَأْخُذُوا حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ فَتَكُونَ لَهُمْ رَكْعَةٌ وَلِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ

روایت ہےحضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم ضجنان وعسفان کے درمیان اتر ے ۱؎ تو مشرکین بولےکہ ان کی ایک نماز ہے جو انہیں اپنے باپ بیٹوں سےزیادہ پیاری ہےیعنی عصرتو اپنی طاقت جمع کرلو اوران پر ایک دم ٹوٹ پڑو ۲؎ ادھرحضرت جبرئیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے اور عرض کیا کہ اپنے صحابہ کو دو گروہوں میں بانٹ دیں انہیں اسی طرح نماز پڑھائیں کہ دوسرا ٹولہ ان کے پیچھے رہے جواپنا بچاؤ اور ہتھیار لیئے رہیں۳؎ ان سب کی ایک ایک رکعت ہوگی اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں۴؎(ترمذی،نسائی)

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html