Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

اقتداء کا فیض پالیں۔اس سے چند مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ جماعت ایسی اہم چیز ہے جو ایسے نازک موقع پر بھی نہ چھوڑی گئی۔افسوس ان لوگوں پر جوبلاعذرنمازباجماعت چھوڑ دیں۔دوسرے یہ کہ نفل والے کے پیچھے فرض نمازجائزنہیں،ورنہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کو دوبارنماز پڑھا دیتے اول جماعت کو فرض کی نیت سے اور دوسری کو نفل کی نیت سے۔تیسرے یہ کہ جماعت واجب ہے محض سنت نہیں۔

۳؎ خلاصہ یہ ہے کہ پہلی جماعت نے پہلی رکعت حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی اور دشمن کے مقابل ہوگئے اور دوسرےگروہ نے دوسری رکعت حضور کے ساتھ پڑھی اور دشمن کے مقابل کھڑے ہوگئے اب پہلی جماعت نے اپنی دوسری رکعت بطریق لاحق پوری کرلی پھر دوسری جماعت نے بطریق مسبوق رکعت اول پوری کی،یہی امام ابوحنیفہ کا قول ہے ان کا ماخذ یہ حدیث ہے۔

۴؎ اسی ترتیب سے جو ابھی فقیر نے عرض کی۔پہلے جماعت اول نے رکعت اپنی قضا کی پھر جماعت دوم نےجیساکہ امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں یہ طریقہ قرآن کریم کی اس آیت کے بہت موافق ہے جو صلوۃ خوف کے بارے میں آئی۔

۵؎ یعنی سخت خوف کے موقعہ پر جب اس طرح نماز پڑھنا بھی ممکن نہ ہو تو غازی نماز قضا نہ کریں بھاگتے دوڑتے،پیدل یا سوار جیسے ہوسکے پڑھ لیں مگر پڑھیں وقت میں۔خیال رہے کہ غزوہ خندق میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پانچ نمازیں قضاءفرما دینا اس خوف کی بنا پر نہ تھا کیونکہ وہاں اس وقت دشمن موجود ہی نہ تھا وقت تنگ تھا،کھدائی زیادہ تھی،نمازوں کاوقت کھدائی میں صرف ہوا،لہذا واقعہ خندق نہ منسوخ ہے نہ اس کے مخالف کیونکہ جنگ میں غازیوں کو صرف اپنی جانوں کا خطرہ ہوتا ہے اور جنگ خندق میں سارا مدینہ خطرے میں تھا۔

۶؎ کیونکہ صحابی کا وہ قول جوعقل سے وراء ہو حدیث مرفوع کے حکم میں ہوتا ہے،اس کی تائید قرآن کریم کی اس آیت سےبھی ہورہی ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُکْبَانًا

1421 -[2] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ عَمَّنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلَاةَ الْخَوْفِ: أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ وَطَائِفَةً وِجَاهَ الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِالَّتِي مَعَهُ رَكْعَةً ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ انْصَرَفُوا فَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَلَّى بِهِمُ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ مِنْ صَلَاتِهِ ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَأَتمُّوا لأَنْفُسِهِمْ ثمَّ سلم بهم

وَأَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ بِطَرِيقٍ آخَرَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

روایت ہے حضرت یزید ابن رومان سے وہ صالح ابن خوات سے راوی ۱؎ وہ ان سے راوی جنہوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذات الرقاع کے دن نماز خوف پڑھی ۲؎ کہ ایک ٹولہ آپ کے ساتھ صف آراء ہوا اور دوسرا ٹولہ دشمن کے مقابل رہا آپ نے اپنے ساتھ والے ٹولے کو ایک رکعت پڑھائی پھر یوں ہی کھڑے رہے انہوں نے اپنی نماز پوری کرلی پھر چلے گئے ۳؎ اور دشمن کے مقابل صف بستہ ہوگئے پھر دوسرا ٹولہ آیا آپ نے انہیں رکعت پڑھائی جو آپ کی نماز سے باقی تھی پھر آپ یوں ہی بیٹھے رہے ان صاحبوں نے اپنی نماز پوری کرلی پھر حضور نے ان سب کے ساتھ سلام پھیرا ۴؎ (مسلم،بخاری)بخاری نے دوسری اسناد سے قاسم سے انہوں نے صالح ابن خوات سے انہوں نے سہل ابن ابی حثمہ سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔

 



Total Pages: 519

Go To