Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۱؎ اس وقت بعض حضرات سنتیں پڑھنے کھڑے ہوئے تھے،بعض حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری پر تعظیمًا کھڑے ہوئے انہیں فرمایا بیٹھ جاؤ۔(مرقاۃ ولمعات)اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ بوقت خطبہ سنتیں پڑھنا منع ہیں جیساکہ ہمارا مذہب ہے۔دوسرے یہ کہ مقتدی مسجد میں امام کی تعظیم کے لیئے اس کی آمد کے وقت کھڑے ہوسکتے ہیں کیونکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھنے کا حکم دیا آئیندہ قیام سے منع نہیں کیا۔تیسرے یہ کہ خطیب کا کھڑا ہونا سنت ہے اورسامعین کا بیٹھنا۔

۲؎  سبحان اﷲ! یہ ہے صحابہ کی اطاعتِ نبی کہ حضرت ابن مسعود مسجد میں داخل ہورہے تھےدروازے پر یہ آواز سنی تو وہیں آپ جوتوں پر بیٹھ گئے تب حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے کرم کریمانہ سے فرمایا کہ ہمارا روئے سخن اور لوگوں سے تھا نہ کہ تم سے۔اس ادب اور اطاعت کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کے حق میں جس چیز سے ابن مسعود راضی اس سے میں راضی۔اسی لیئے ہمارے امام اعظم سراج الامت ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ خلفائے راشدین کے بعد آپ کے قول کو تمام صحابہ کے قول پر ترجیح دیتے ہیں۔صوفیا فرماتے ہیں اس کے معنی یہ ہیں کہ"تَعَالْ مِنْ صَفِّ النَّعَالِ اِلی مَقَامِ الرِّجَالِ"۔حضرت ابن مسعود اس اطاعت کی بنا پر اب تک حبیب تھے اب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ہوگئے،اب تک طالب تھے اب مطلوب ہوگئے۔شعر

ہر کہ او درعشق صادق آمدہ است           برسرش معشوق عاشق آمدہ است

1419 -[19]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «من أدْرك من الْجُمُعَة رَكْعَة فَليصل إِلَيْهَا أُخْرَى وَمَنْ فَاتَتْهُ الرَّكْعَتَانِ فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا» أَو قَالَ: «الظّهْر» . رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو جمعے کی ایک رکعت پالے تو اس کے ساتھ دوسری ملالے اور جس کی دونوں رکعتیں جاتی رہیں وہ چار پڑھے یا فرمایا ظہر پڑھے ۱؎(دارقطنی)

۱؎ یہ حدیث امام محمد کی دلیل ہے کہ جسے جمعہ کی التحیات ملے بلکہ دوسری رکعت کا سجدہ وہ ظہر ادا کرلے،اس نے جمعہ نہیں پایا۔حضرات شیخین کے نزدیک جو سلام سے پہلے مل جائے وہ جمعہ ہی پڑھے،ان کی دلیل وہ حدیث ہے جو صحاح ستہ نے بروایت ابوسلمہ وابوہریرہ نقل کی کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جماعت کھڑی ہو تو بھاگتے ہوئے نہ آؤ،اطمینان سے آؤ جو پالو وہ پڑھ لو جو رہ جائے پوری کرلو،اس میں نماز جمعہ وغیرہ سب داخل ہیں۔یہ حدیث اولًا ضعیف ہے جیساکہ امام نووی نے فرمایا اور اگر صحیح بھی ہو تو یہاں دو رکعتوں کے نہ پانے کا مطلب یہ ہے کہ نماز کا کوئی حصہ نہ ملے سلام کے بعد یا سلام کی حالت میں پہنچے۔

نوٹ:نماز جمعہ صرف شہر یا اطراف شہرمیں ہوسکتی ہے گاؤں یا جنگل میں ناجائز ہے یہ مسئلہ نہایت معرکہ کا ہے مگر چونکہ اس کےمتعلق کوئی حدیث مشکوٰۃ شریف میں نہیں آئی اس لیئے ہم بھی چھوڑتے ہیں اگر کسی کو شوق ہو تو ہماری کتاب"فتاویٰ نعیمیہ"میں دیکھے جہاں ہم نے قرآن و احادیث سے اس کا نہایت نفیس ثبوت دیا ہے اور مخالفین کے تمام اعتراضات کے نہایت قوی جواب دیئے ہیں۔


 



Total Pages: 519

Go To