$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

اور امام کا بولنا کلام کو بندکردیتا ہے اور ابن ابی شیبہ میں ہے کہ حضرت علی وابن عمر امام کے نکلنے کے بعدنمازوکلام سب مکروہ کہتے تھے،نیز انہی ابن ابی شیبہ نےحضرت عروہ سے روایت کی کہ جب امام منبر پر بیٹھ جائے تو نمازجائزنہیں،اور امام زہری سے روایت کی کہ جوجمعہ کے دن خطبہ کی حالت میں آئے وہ بیٹھ جائے،نماز نہ پڑھے،امام شافعی و امام احمد نے اس حدیث کی بنا پرفرمایا کہ جمعہ کے دن تحیۃ المسجد واجب ہے اور بحالت خطبہ پڑھی جائیں مگر یہ دلیل کمزو رہے،کیونکہ تحیۃ المسجدجب کبھی بھی واجب نہ ہوئیں تو جمعہ کے دن کیوں واجب ہوں گی،نیز اس معنے سے یہ حدیث ان تمام احادیث کے خلاف ہوجائے گی جو ہم نے عرض کیں،نیز جمہور صحابہ و تابعین اس وقت نفل ناجائز کہتے ہیں،لہذا وہی معنے حدیث کے لیئے جائیں جو ہم نے کیئے تاکہ یہ حدیث نہ آیت قرآنی کے خلاف ہو نہ دیگر احادیث کے۔(ماخذ ازلمعات)

1411 -[11]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم وَهُوَ يخْطب: «إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فليركع رَكْعَتَيْنِ وليتجوز فيهمَا» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہےحضرت ابوہریرہ سےفرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس نے امام کے ساتھ ایک رکعت نمازکی پائی اس نے نماز پالی ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ ظاہر یہ ہے کہ یہاں نماز سے مراد نماز جمعہ ہے اگرچہ الفاظِ حدیث میں جمعہ کا ذکر نہیں اور مطلب یہ ہے کہ جماعت کی ایک رکعت ملنے سے ثواب کامل ملتا ہے،ورنہ مسئلہ یہ ہے کہ جو امام کو التحیات یا سجدہ سہو میں پالے اس نے بھی جمعہ پالیا کیونکہ دوسری جگہ حدیث میں یہ ہے کہ جس قدرتمہیں امام کے ساتھ نماز مل جائے وہ پڑھ لو اورباقی قضا کرلو۔اسی لیئے اگر مسافر مقیم امام کے ساتھ آخری التحیات میں شریک ہوتو وہ چار رکعتیں پڑھے گا۔معلوم ہوا کہ اس نے جماعت پالی۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1413 -[13]

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ كَانَ يَجْلِسُ إِذَا صَعِدَ الْمِنْبَرَ حَتَّى يَفْرُغَ أُرَاهُ الْمُؤَذِّنَ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ ثُمَّ يَجْلِسُ وَلَا يَتَكَلَّمُ ثمَّ يقوم فيخطب. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو خطبے پڑھتے تھے جب منبر پر چڑھتے تو اولًا بیٹھتے تھے ۱؎ حتی کہ فارغ ہوجاتے یعنی مؤذن،پھر کھڑے ہوتے تو خطبہ پڑھتے پھربیٹھتے اور کلام نہ کرتے پھرکھڑے ہوتے خطبہ پڑھتے۲؎(ابوداؤد)

۱؎ مکہ معظمہ کے علاوہ اور جگہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم منبر پرخطبہ پڑھتےتھے اور مکہ مکرمہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین نے دروازہ کعبہ پرخطبہ پڑھا ہے۔وہاں منبر امیرمعاویہ کی ایجادہے جسے صحابہ نے بغیر اعتراض منظور کیا اور جب سے اب تک وہاں بھی خطبہ منبر پر ہی ہو رہا ہے،وہاں منبر پر خطبہ سنتِ امیرمعاویہ ہے۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کی تین سیڑھیاں تھیں اور آپ تیسری پر کھڑے ہوتے تھے،یہی سنت ہے اب تو وہاں منبر کی بہت سیڑھیاں ہیں۔

۲؎  یہی سنت ہے کہ امام پہلے منبر پر بیٹھے پھر اس کے سینہ کےمقابل خارج مسجدمؤذن اذان کہے،پھر امام کھڑا ہوکر دو خطبے دے جن کے درمیان بیٹھے مگر اس حال میں بھی دنیوی کلام نہ کرے خاموش رہے یا دل میں کوئی قرآنی آیت پڑھے۔مرقات



Total Pages: 519

Go To
$footer_html