Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1408 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَى الْمِنْبَرِ: (وَنَادَوْا يَا مَالك ليَقْضِ علينا رَبك)

روایت ہے حضرت یعلیٰ ابن امیہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ آیت پڑھتے سنا "وَنَادَوْایٰمٰلِکُ"الخ ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ اس آیت میں اس پکار کا ذکر ہے جوجہنمی عذاب سے تنگ آکر مالک سے فریادکریں گے۔اس سےمعلوم ہوا کہ خطبہ میں ڈرانے والی آیتیں پڑھنا زیادہ بہتر ہے کہ ان سے دل نرم ہوتا ہے۔

1409 -[9]

وَعَنْ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَتْ: مَا أَخَذْتُ (ق. وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ)إِلَّا عَنْ لِسَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا كُلَّ جُمُعَةٍ عَلَى الْمِنْبَرِ إِذَا خطب النَّاس. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہےحضرت ام ہشام بنت حارثہ ابن النعمان سے فرماتی ہیں کہ میں نے سورۂ ق والقرآن المجید رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پاک سے ہی یاد کی جسے آپ ہرجمعہ کو منبر پر پڑھتےتھے جب کہ لوگوں کوخطبہ فرماتے ۱؎(مسلم)

۱؎ اس طرح کہ کسی خطبہ میں سورۂ قٓ کی کوئی آیت اورکسی میں دوسری آیت کیونکہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے پوری سورۂ قٓ کسی خطبہ میں نہیں پڑھی یہ چونکہ جمعہ میں حاضر رہتی تھیں اس لیئے سنتے سنتے اس سورۃ کی حافظہ ہوگئیں۔

1410 -[10]

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ قَدْ أَرْخَى طَرَفَيْهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عمرو ابن حریث سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن اس حال میں خطبہ دیا کہ آپ پرسیاہ عمامہ تھا جس کے دونوں کنارے اپنے دونوں کندھوں کے نیچے لٹکائےتھے ۱؎(مسلم)

۱؎ اس حدیث سے چند مسئلےمعلوم ہوئے:کہ ایک یہ کہ خطبہ ونمازعمامہ سے بہترہے۔ایک ضعیف حدیث میں ہے کہ عمامہ کی نماز سترنمازوں سے افضل ہے۔دوسرے یہ کہ سیاہ عمامہ بھی سنت ہے۔تیسرے یہ کہ بغیرشملہ کا عمامہ سنت کے خلاف ہے،شملہ ضرور چاہیئے۔چوتھے یہ کہ عمامہ کے دو شملے ہونا افضل ہیں اور دونوں پشت پر پڑے ہوں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عمامہ سات ہاتھ کا تھا اور شملہ ایک بالشت سے کچھ زیادہ،امیر معاویہ اورحضرت ابودرداء اکثر سیاہ عمامہ باندھتے تھے،اسی سنت کی بنا پرحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمان ابن عوف کے سیاہ عمامہ باندھا تھا یہ واقعہ جویہاں مذکور ہوا آپ کے مرض وفات کے خطبہ کا ہے۔

1411 -[11]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم وَهُوَ يخْطب: «إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فليركع رَكْعَتَيْنِ وليتجوز فيهمَا» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا کہ جب تم میں سےکوئی جمعہ کے دن اس حال میں آئے کہ امام خطبہ پڑھنا چاہتا ہوتو دو رکعتیں پڑھ لے اور ان میں اختصار کرے ۱؎ (مسلم)

۱؎ ان دو رکعتوں سے مراد تحیۃ المسجد کے نفل ہیں۔یَخْطُبُ کے معنی ارادۂ خطبہ ہیں نہ کہ خطبہ پڑھناکیونکہ خطبہ کی حالت میں کلام،وظیفہ،نمازنفل سب حرام ہیں۔چنانچہ مؤطا امام مالک میں حضرت زہری سے مروی ہے کہ امام کا نکلنا نمازکوختم کردیتا ہے



Total Pages: 519

Go To