Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

بہت مختصر۔پانچویں یہ کہ دوخطبوں کے درمیان منبر پر بیٹھ کر فاصلہ کرے۔خیال رہے کہ خلفاء اورصحابہ و اہل بیت رضی اللہ عنہم کا ذکر نہ سنت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہے نہ سنت صحابہ،بلکہ بدعت حسنہ ہےجس کی وجہ ہم پہلےعرض کرچکے ہیں یہ ضرور کی جائے۔جو لوگ ہر بدعت کو حرام کہتے ہیں وہ اس کو کیا کہیں گے۔

1406 -[6]

وَعَنْ عَمَّارٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ طُولَ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَقِصَرَ خُطْبَتِهِ مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِهِ فَأَطِيلُوا الصَّلَاة واقصروا الْخطْبَة وَإِن من الْبَيَان سحرًا» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عمار سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سناکہ مرد کا نمازکو لمبا کرنا اور خطبے کو مختصرکرنا اس کے عالم ہونے کی علامت ہے لہذا نماز دراز کرو اور خطبہ مختصر ۱؎ اور بعض بیان جادو ہیں ۲؎(مسلم)

۱؎ یعنی فرض جمعہ خطبہ جمعہ سے بڑے ہوں کیونکہ نمازمقصود ہے،خطبہ اس کے تابع،نیزخطبہ میں خلق سے خطاب ہے اور نماز میں خالق سے عرض و معروض لہذا یہ دراز چاہیئے،مگر خطبہ اتنا مختصربھی نہ ہوکہ اس کی سنتیں رہ جائیں۔

۲؎  یعنی بعض خطبے اور وعظ دلوں پر جادو سا اثر رکھتے ہیں لہذا اسے دراز نہ کرو تاکہ ریاوفخر پیدا نہ ہویا یہ مطلب ہے کہ بعض بیان جادو کا اثر رکھتے ہیں کہ پڑھنے میں تھوڑے اور اثر میں زیادہ لہذا خطبہ چھوٹا ہومگر مؤثر ہو۔

1407 -[7]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ وَعَلَا صَوْتُهُ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ حَتَّى كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيش يقولك: «صَبَّحَكُمْ وَمَسَّاكُمْ» وَيَقُولُ: «بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ» . وَيَقْرُنُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَابَةِ وَالْوُسْطَى. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہےحضرت جابر سےفرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ پڑھتے تو آپ کی آنکھیں سرخ ہوجاتیں اور آوازشریف بلندہوجاتی اور آپ کا غضب سخت ہوجاتا(ایسا معلوم ہوتا)کہ آپ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں فرماتے ہیں کہ صبح کو تم پر آن پڑے گا یا شام کو ۱؎ اور فرماتےہیں کہ میں اورقیامت اِن دوکی طرح بھیجا گیا ہوں اپنی کلمے اور بیچ کی انگلی کو ملاتے۲؎(مسلم)

۱؎ یعنی خطبہ کی نصائح کا اثر خود حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے قلب شریف پرہوتاتھا جس کی علامتیں آپ کی آواز اور آنکھوں سے نمودار ہوتی تھیں۔تبلیغ وہی مؤثر ہوتی ہے جس کا اثر مبلغ کے دل میں ہو۔خیال رہے کہ یہاں غصہ سے مراد جلال الٰہی  اورعظمت ربانی کی تجلیات کا آپ کے چہرے پر ظاہرہوناہے نہ کسی پر ناراض ہونا۔لشکروں سے مراد حضرت ملک الموت کا لشکر ہے،یعنی موت قریب ہے تیاری کرو،صبح کے وقت شام کی امید نہ کرو اور شام کے وقت صبح کی۔

۲؎ یعنی جیسے ان دو انگلیوں کے درمیان فاصلہ نہیں ایسے ہی میرے اورقیامت کے درمیان کسی نبی کا فاصلہ نہیں میرا دین تاقیامت ہے یا جیسے یہ دو انگلیاں بہت ہی قریب ہیں ایسے ہی قیامت اب بہت ہی قریب ہے دنیا کی عمر کا بہت حصہ گزر چکاتھوڑا باقی ہے یاجیسے یہ دو انگلیاں ایک دوسرے پر ظاہر ہیں ایسے ہی قیامت مجھ پر ظاہر ہے،میں اس کے حالات اور اس کے آنے کی تاریخ سےخبردار ہوں۔

1408 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَى الْمِنْبَرِ: (وَنَادَوْا يَا مَالك ليَقْضِ علينا رَبك)

روایت ہے حضرت یعلیٰ ابن امیہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ آیت پڑھتے سنا "وَنَادَوْایٰمٰلِکُ"الخ ۱؎(مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 519

Go To