Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

836 -[15]

وَعَن عَمْرو بن حُرَيْث: أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقْرَأ فِي الْفجْر (وَاللَّيْل إِذا عسعس)رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے عمرو بن حریث سے کہ انہوں نےنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو فجر میں"وَالَّیۡلِ اِذَاعَسْعَسَ"پڑھتے سنا ۱؎ (مسلم)

۱؎ اس سے مراد "اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ"ہے۔چونکہ یہ الفاظ اس سورت شریف میں آتے ہیں اس لیے ان کلمات سے وہ سورۃ بیان فرمائی،یہ سورت طوال مفصّل سے ہے اس میں انتیس آیات ہیں۔

837 -[16]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِمَكَّةَ فَاسْتَفْتَحَ سُورَةَ (الْمُؤْمِنِينَ) حَتَّى جَاءَ ذِكْرُ مُوسَى وَهَارُونَ أَوْ ذِكْرُ عِيسَى أَخَذَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْلَةٌ فَرَكَعَ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضر ت عبداﷲ ابن سائب سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں نماز فجر پڑھائی ۲؎ سورۂ مؤمنون شروع کی حتی کہ موسیٰ و ہارون کا ذکر یا عیسیٰ کا ذکر آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانسی آگئی تورکوع فرمادیا۔(مسلم)

۱؎ آپ قبیلہ بنی مخذوم سے ہیں،اہل مکہ کے قرأت قرآن میں استاذ ہیں،حضرت ابی ابن کعب کے شاگرد ہیں،بہت صحابہ نے آپ سے احادیث روایت کیں۔

۲؎ فتح مکہ کے دن جیسا کہ نسائی شریف کی حدیث میں ہے لہذا یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا نہیں جیسا کہ بعض نے سمجھا،یعنی آپ قرأت زیادہ کرنا چاہتے تھے مگر درمیان میں کھانسی آجانے کی وجہ سے رکوع فرمادیا کہ اگر امام کودوران نماز میں کوئی حادثہ پیش آجاوے جس سے وہ دراز قرأت نہ کرسکے تو رکوع کردے ،اس سے بہت مسائل مستنبط ہوتے ہیں۔

838 -[17] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقْرَأ فِي الْفجْر يَوْم الْجُمُعَة (الم تَنْزِيلُ)فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى وَفِي الثَّانِيَةِ (هَل أَتَى على الْإِنْسَان)

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی پہلی رکعت میں الم تنزیل اور دوسری رکعت میں "ہَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنۡسٰنِ" پڑھتے تھے ۱؎ (مسلم، بخاری)

۱؎ یعنی کبھی کبھی جمعہ کی فجر میں یہ سورتیں پڑھا کرتے تھے،اب بھی امام کو چاہیے کہ حصول برکت اور ادائے سنت کے لیے کبھی جمعہ کی فجر میں یہ سورتیں پڑھ لیا کرے۔امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک جمعہ کی فجر میں یہ سورتیں پڑھنا سنت مؤکدہ ہیں۔خیال رہے کہ امام ہمیشہ ایک ہی معین سورت نماز میں نہ پڑھا کرے کہ اس سے مقتدی دھوکا کھائیں گے کہ شاید یہی سورت پڑھنا واجب ہے دوسری ناجائز،بلکہ ادل بدل کر پڑھا کرے اسی لیے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے افعال کریمہ اس بارے میں مختلف آرہے ہیں۔چونکہ ان سورتوں میں حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش،جنت،دوزخ کی پیدائش اور قیامت کے حالات کا تذکرہ ہے اور یہ واقعات جمعہ ہی کو ہوئے اور قیامت بھی جمعہ ہی کو ہوگی لہذا حضورصلی اللہ علیہ وسلم یہ سورتیں جمعہ کے دن پڑھا کرتے تھے اور غالب یہ ہے کہ آپ الٓم سجدہ میں سجدۂ  تلاوت بھی کرتے تھےمگر اب فقہاءفرماتے ہیں کہ سواء تراویح اور نمازوں میں سجدہ والی آیات و سورتیں نہ پڑھے تاکہ لوگ غلطی میں نہ پڑیں۔

 



Total Pages: 519

Go To