Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

باب الخطبۃ والصلوۃ

خطبےاورنماز کاباب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  خطبہ کے لغوی معنی ہیں لوگوں سے خطاب کرنا۔شریعت میں اس کلام کو خطبہ کہا جاتا ہے جس میں شہادتیں،نصیحتیں وغیرہ ہوں۔خطبہ جمعہ کی نماز کے لیئے شرط ہے،عیدین کے لیئے سنت،نکاح وعظ سے پہلےبھی سنت ہے۔مسنون یہ ہے کہ خطبہ جمعہ نماز سے کم ہو،عربی کے سوا اور زبان میں اذان،تکبیر،خطبہ پڑھنا بدعت قبیحہ ہے کیونکہ خلفائے راشدین نے فارس،روم اورحبشہ وغیرہ ایسے ملک فتح کیئے جہاں کی زبان عربی نہ تھی لیکن کہیں ثابت نہیں کہ ان ملکوں میں یہ چیزیں غیرعربی میں پڑھی گئی ہوں۔خطبہ سے مراد صرف وعظ ونصیحت مرادنہیں تاکہ سامعین کاسمجھنا ضروری ہوبلکہ اس کا مقصود اﷲ کا ذکرہے جس کے لیئے زبان عربی موزوں ہے۔قرآن کریم نے خطبہ کو ذکر اﷲ فرمایا وعظ نہیں کہا،رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِاللہِ"۔سامعین کو وعظ خطبہ سے پہلے سنالو،خطبہ میں فارسی یا اردو داخل کرکے شعار اسلامی کیوں بگاڑتے ہو۔

1401 -[1]

عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ حِينَ تَمِيلُ الشَّمْسُ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آفتاب ڈھل جانے پر جمعہ پڑھتے تھے ۱؎(بخاری)

۱؎ یعنی زوال سے پہلے یا زوال کے وقت جمعہ نہیں پڑھتے تھے بلکہ ظہر کے وقت میں ادا کرتے تھے،چونکہ جمعہ ظہر کا قائم مقام ہے اس لیئے اسی وقت میں ادا ہوگا۔یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ جمعہ آفتاب ڈھلنے سے پہلے جائزنہیں،امام احمد کے ہاں وقت جمعہ سورج نکلنے سے شروع ہوجاتا ہے،یہ حدیث ان کے خلاف ہے۔

1402 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: مَا كُنَّا نُقِيلُ وَلَا نَتَغَدَّى إِلَّا بَعْدَ الْجُمُعَة

روایت ہے حضرت سہل ابن سعدسے فرماتے ہیں ہم دوپہر کا کھانا اور آرام جمعہ کے بعد ہی کرتے تھے ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی جمعہ کے دن ہم دوپہر کا آرام بھی نہ کرتے تھے اورکھانابھی نہ کھاتے تھے،وہ وقت تیاریٔ جمعہ میں گزارتے تھے،یہ دونوں کام نماز جمعہ کے بعدکرتے تھے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ نماز جمعہ سویرے ہی پڑھ لیتے تھے جس کے بعدناشتہ اورقیلولہ کاوقت آتاتھا کہ یہ معنی گزشتہ حدیث کے خلاف ہیں لہذا یہ حدیث حنفیوں کے مخالف نہیں یعنی کھانے کی وجہ سے نماز آگے نہ کرتے تھے بلکہ نماز کی وجہ سے کھانا اور آرام پیچھےکردیتے تھے،چونکہ جمعہ کے بعد کا یہ کھانا اور آرام ناشتہ اورقیلولہ کا قائم قام تھا اس لیئے اسے ناشتہ اورقیلولہ کہہ دیا گیا ورنہ لغۃً نہ یہ آرام قیلولہ ہے اور نہ یہ کھانا ناشتہ۔خیال رہے کہ یہ حدیث ان بزرگوں کی انتہائی دلیل ہے جو زوال سے پہلےنمازجمعہ جائز مانتے ہیں۔فقیر کی اس تقریر سے حدیث واضح ہوگئی۔

1403 -[3]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَدَّ الْبَرْدُ بَكَّرَ بِالصَّلَاةِ وَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ أَبْرَدَ بِالصَّلَاةِ. يَعْنِي الْجُمُعَةَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہےحضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سخت سردی ہوتی تو نماز جلدی پڑھ لیتے اور جب سخت گرمی ہوتی تو نماز ٹھنڈی کرتے یعنی جمعہ کی ۱؎(بخاری)

 



Total Pages: 519

Go To