Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

(۱۲)بعض اولیاء کے اجسام صدہا برس کے بعد اب بھی درست دیکھے جاتے ہیں۔اگر وہ بالکل مردے ہیں تو جسم گلتا کیوں نہیں۔حیات نبی پر یہ بارہ دلائل ہیں۔اس کی تحقیق ہماری کتاب "درس القرآن"میں دیکھو۔

۵؎ مرقاۃ نے فرمایا کہ اس کی اسناد نہایت صحیح اورقوی ہے اور یہ حدیث بہت اسنادوں سے مختلف الفاظ میں منقول ہے۔

1367 -[14]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوْ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ إِلَّا وَقَاهُ اللَّهُ فِتْنَةَ الْقَبْرِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ إِسْنَاده بِمُتَّصِل

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کوئی مسلمان نہیں کہ جو جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات فوت ہو مگر اسے اﷲ عذاب قبر سے محفوظ رکھتا ہے ۱؎(احمدوترمذی)ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے کہ اس کی اسناد متصل نہیں۲؎

۱؎ یعنی جمعہ کی شب یا جمعہ کے دن مرنے والے مؤمن سے نہ حساب قبر ہو نہ عذاب قبر کیونکہ اس دن کی موت شہادت کی موت ہے اور شہید حساب و عذاب سے محفوظ ہےجیسا کہ دیگر روایات میں ہے۔ہم پہلے بتاچکے ہیں کہ آٹھ شخصوں سے حساب قبر نہیں ہوتا جن میں سے ایک یہ بھی ہے۔

۲؎ امام جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب جمع الجوامع میں اس حدیث کو بہت اسنادوں سے نقل فرمایا اور فرمایا کہ اسے احمد،ترمذی،ابن ابی الدنیا،ابن وہب،بیہقی نے قوی اسنادوں سے نقل کیا،ابونعیم نے حلیہ میں حضرت جابر سے کچھ تھوڑے اختلاف کے ساتھ روایت کیا اور حمید نے کتاب الترغیب میں ایاس ابن بکیر سے مرفوعًا روایت کیا کہ جو جمعہ کے دن فوت ہوجائے اسے شہید کا ثواب ہے اور عذاب قبر سے نجات ہے۔ابن جریج نے عطا سے مرفوعًا روایت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو مسلمان جمعہ کے دن یا رات میں وفات پائے وہ عذاب قبر اور فتنۂ قبر سے محفوظ رہے گا۔رب تعالٰی سے اس طرح ملے گا کہ اس کے ذمہ کوئی حساب نہ ہوگا اور قیامت میں ایسے آئے گا کہ اس کے ساتھ گواہ ہوں گے اور اس کے چہرے پر نورانی مہر ہوگی۔(ازمرقاۃ ولمعات واشعتہ)لہذا یہ حدیث نہایت قوی ہے اور دوسری اسنادوں سے اسے قوت حاصل ہے،امام ترمذی کو جو اسناد ملی وہ متصل نہ ہوگی اور اگر حدیث ضعیف بھی ہوتی تو بھی فضائل میں قبول تھی چہ جائے کہ یہ حدیث تو بہت قوی ہے۔

1368 -[15]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَرَأَ: (الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لكم دينكُمْ)

الْآيَةَ وَعِنْدَهُ يَهُودِيٌّ فَقَالَ: لَوْ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عَلَيْنَا لَاتَّخَذْنَاهَا عِيدًا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَإِنَّهَا نزلت فِي يَوْم عيدين فِي وَيَوْم جُمُعَةٍ وَيَوْمِ عَرَفَةَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ آپ نے یہ آیت پڑھی "اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیۡنَکُمْ"الایۃ آپ کے پاس ایک یہودی تھا وہ بولا اگر یہ آیت ہم پر اترتی تو ہم اسے عید بنالیتے حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ یہ آیت دو عیدوں کے دن میں اتری یعنی جمعہ اور عرفہ کے دن ۱؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔

۱؎ یہودی نے یہ اعتراض کیا کہ مسلمان ناقدرے ہیں اور ہم قدر دان ہیں کہ ان کے قرآن میں ایسی عظیم الشان آیت ہے جس میں اسلام کے مکمل اور غیرمنسوخ ہونے کی خبر دی گئی،لیکن انہوں نے اس کے نزول پرکوئی خوشی نہ منائی،ہم ایسے قدر دان ہیں کہ اگر یہ آیت ہماری توریت میں ہوتی تو ہم اس کے نزول کے دن تا قیامت عید مناتے۔آپ کے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ بے وقوف جس دن یہ آیت اتری ہے



Total Pages: 519

Go To