Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر نمازی سلام عرض کرتا۔(۷)ہم کلمے میں پڑھتے ہیں محمد رسول اﷲ(محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں)اگر وہ زندہ نہ ہوتے تو کہا جاتا کہ اﷲ کے رسول تھے۔غرضکہ اس حدیث کی تائید قرآنی آیات سےبھی ہے اور دیگر عقلی و نقلی دلائل سے بھی۔خیال رہے کہ آیت کریمہ"اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّاِنَّہُمۡ مَّیِّتُوۡنَ"اس حدیث کے خلاف نہیں کیونکہ وہاں موت سے مراد حسی موت ہےجس پر بعض احکام موت کے جاری ہوجاتے ہیں جیسےغسل،کفن،دفن،وغیرہ اور یہاں زندگی سےحقیقی زندگی مراد ہے،نیز وہاں آیات میں موت سے مراد ہے روح کا جسم سے علیحدہ ہوجانا اور یہاں زندگی سے مراد ہے روح کا جسم وغیرہ میں تصرف کرنا،جیسے ہماری سیلانی روح نیند میں جسم سے نکل کر جسم کو زندہ رکھتی ہے یوں ہی ان کی مقامی روح بوقت وفات جسم سے نکل کر بھی زندگی باقی رکھتی ہے۔لہذا نہ تو آیات متعارض ہیں اور نہ حدیث و قرآن میں کچھ تعارض اس لیئے اس آیت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیئے میت الگ بولا گیا اور دوسرے کے لیئے میتون علیحدہ،اگر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی وفات بھی دوسروں کی طرح ہوتی تو یوں فرمایا جاتا "اِنَّكَ وَ اِنَّہُمْ مَّیِّتُوْنَ"۔اس حیات کی مفصل تحقیق ہماری"تفسیرنعیمی"پارہ دوم میں دیکھیں۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم روح ہیں سارا عالم جسم ہے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم جڑ ہیں سارا عالم درخت ہے،ا گر حضور صلی اللہ علیہ وسلم فنا ہوگئے ہوتے تو عالَم بھی ختم تھا۔جیسے درخت کی سبز شاخیں جڑ کی زندگی کا پتہ دیتی ہیں اور جسم کی حس و حرکت روح کا پتہ دیتی ہے ایسے عالَم کا قیام و بقا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات کا پتہ دے رہا ہے۔دیکھو جسم کا سوکھا ہوا عضو سڑتا گلتا نہیں کہ ابھی روح سے وابستہ ہے اگر چہ بے کار ہوگیا ہے،ایسے ہی ہم گنہگاروں پر عذابِ الٰہی  نہیں آتا کہ اگرچہ ہم بے کار ہیں مگر دامن مصطفے پاک سے وابستہ ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَمَاکَانَ اللہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَاَنۡتَ فِیۡہِمْ"۔اگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں نہ رہے ہوتے تو ہم پر عذاب آجانا چاہیئے تھاہماری بدکار یوں کے سبب۔(۸)حضرت سلیمان کے متعلق رب فرماتا ہے:"مَا دَلَّہُمْ عَلٰی مَوْتِہٖۤ اِلَّا دَآبَّۃُ الْاَرْضِ تَاۡکُلُ مِنۡسَاَتَہٗ" یعنی حضرت سلیمان بعد وفات عصا پر ٹیک لگائے کھڑے رہے بہت عرصہ کے بعد دیمک نے لاٹھی کھائی تب آپ کا جسم زمین پر آیا اسی عرصہ میں نہ جسم بگڑا نہ دیمک نے کھایا۔(۹)وہ شہدا جوحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامانِ غلام ہیں جب ان پر فدا ہوکر زندہ جاوید ہوگئے تو خود حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کیسی اہم ہے۔رزق سے مراد رزق حسی ہے یعنی جنتی میوے ان کی خدمت میں پیش ہوتے ہیں جس سے وہ بہرا مند رہتے ہیں،جب ان کے غلام یعنی شہداء کی روحیں جنت میں پہنچتی ہیں،وہاں کے پھل کھاتی ہیں اور جب مریم کو دنیا میں جنت کے پھل دیئے گئے اور انہوں نے کھائے(قرآن مجید)تو انبیائےکرام خصوصًا سید الانبیاء کے رزق کا کیا پوچھنا۔اصحاب کہف اور ان کا کتا صدہا سال سے سو رہے ہیں،انہیں غیبی رزق بھی برابرپہنچ رہا ہے،سورج ان پر دھوپ نہیں ڈالتا۔دسمبر،جنوری،اور جون و جولائی ان پر سردی گرمی نہیں پہنچاتے،حضرات انبیاء بعد وفات ان سے اعلیٰ حسن والی زندگی رکھتے ہیں۔(۱۰)حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر بعد وفات اپنی ازواج کا نان نفقہ واجب ہے جیسے زندگی شریف میں تھا۔چنانچہ بخاری وغیرہ کتب احادیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ ہم کسی کے وارث نہ کوئی ہمارا وارث،ہمارے بعد ہماری ازواج کے نفقہ اور عُمّال کی تنخواہوں سے جو بچے وہ صدقہ ہے۔(۱۱)حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب تک میرے حجرے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق دفن رہے میں بے حجاب وہاں جاتی تھی مگر جب سے جناب عمر دفن ہوئے میں بے حجاب جاتے عمر سے شرماتی ہوں،اگر وہ حضرات زندہ نہیں تو یہ شرم کس سے ہے۔



Total Pages: 519

Go To