Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1366 -[13]

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكْثِرُوا الصَّلَاةَ عَلَيَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَإِنَّهُ مَشْهُودٌ تَشْهَدُهُ الْمَلَائِكَةُ وَإِنَّ أحدا لن يُصَلِّي عَلَيَّ إِلَّا عُرِضَتْ عَلَيَّ صَلَاتُهُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهَا» قَالَ: قُلْتُ: وَ بَعْدَ الْمَوْتِ؟ قَالَ:«إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ فَنَبِيُّ اللَّهِ حَيٌّ يُرْزَقُ».رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

 روایت ہے حضرت ابودرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مجھ پر جمعہ کے دن درود زیادہ پڑھو کیونکہ یہ حاضری کا دن ہے جس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں ۱؎ اور مجھ پرکوئی درود نہیں پڑھتا مگر اس کا درود مجھ پر پیش ہوتا ہے حتی کہ اس سے فارغ ہوجائے۲؎  فرماتے ہیں میں نے عرض کیا کیا موت کے بعد بھی فرمایا کہ ا ﷲ نے زمین پر نبیوں کے جسموں کا کھانا حرام کردیا ہے ۳؎ لہذا اﷲ کے نبی زندہ ہیں روزی دیئے جاتے ہیں۴؎(ابن ماجہ)۵؎

۱؎  یعنی اس دن میں رحمت اور برکت کے فرشتے اترتے ہیں اور مسلمانوں کے گھروں،ان کی مجلسوں میں پہنچتے ہیں تاکہ ان کے ساتھ ذکر میں مشغول ہوں اور قیامت میں ان کے ایمان اور تقویٰ کی گواہی دیں۔

۲؎ یعنی یہ نہیں ہوتا کہ درود پہنچانے والا فرشتہ سارے درودوں کا تھیلا ایک دم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا ئے بلکہ اگر کوئی سو بار درود شریف پڑھے تو یہ فرشتہ سو بار اس کے اور گنبدِ خضریٰ کے درمیان چکر لگائے گا اور ہر درود علیحدہ علیحدہ پیش کرے گا۔(مرقاۃ)اس سے اس فرشتے کی قوت رفتارمعلوم ہوئی۔

۳؎ اس جواب سے معلوم ہورہا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم حیات النبی بیان فرمارہے ہیں،یعنی انبیاء بعد وفات زندہ ہی رہتے ہیں لہذا تمہارے درود مجھ پر جیسے اب پیش ہورہے ہیں پھربھی پیش ہوتے رہیں گے۔یہاں مرقاۃ نے فرمایا کہ اولیاءاﷲ مرتے نہیں بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرف منتقل ہوجاتے ہیں اسی لیئے ان کی موت کو انتقال یا وفات کہتے ہیں اور ان کی موت کے دن کو عرس،کہ وہ دولہا کی طرح یہاں سے وہاں منتقل ہوجاتے ہیں۔ہم پہلےعرض کرچکے ہیں کہ نبی کے جسم کو نہ مٹی کھا سکتی ہے ہے نہ کوئی جانور۔یعقوب علیہ السلام کا فرمانا میں ڈرتا ہوں کہ یوسف کو بھیڑیا کھا جائے گا ظاہر یہ ہے کہ وہاں بھیڑئے سے مراد خود ان کے بھائی ہیں ورنہ پیغمبر کےجسم کو مٹی نہیں کھاتی۔

۴؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ فرمان بھی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا ہی ہے اور نبی سے مراد جنس نبی ہیں۔مرقاۃ نے یہاں فرمایا کہ انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں،نمازیں پڑھتے ہیں۔امام بیہقی فرماتے ہیں کہ یہ حضرات بعد وفات مختلف وقتوں میں مختلف جگہ تشریف فرماتے ہیں یہ عقلًا نقلًا  ہرطرح ثابت ہے۔(۱)رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَسْـَٔلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنۡ قَبْلِکَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ"یعنی اے محبوب!اپنے سے پہلے انبیاء سے یہ مسئلہ پوچھو۔معلوم ہوا کہ گزشتہ انبیاءحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں زندہ ہیں کہ آپ ان سے بات چیت و سوال و جواب بھی کر سکتے ہیں۔(۲)اور فرمایا ہے:"وَ لَاۤ اَنۡ تَنۡکِحُوۡۤا اَزْوٰجَہٗ مِنۡۢ بَعْدِہٖۤ اَبَدًا"۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے ان کی وفات کے بعد کبھی نکاح نہ کرو۔اس آیت نے بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان کی بیویاں بدستور ان کے نکاح میں رہتی ہیں بیوہ نہیں ہوتیں،ورنہ اَزْوٰجَہٗنہ فرمایا جاتا،نیز ان سے نکاح کی حرمت ماں ہونے کی وجہ سے نہیں وہ بیویاں احترام میں مائیں ہیں نہ کہ احکام میں ورنہ ان کی میراث امت کو ملتی۔ان کی اولاد سے نکاح حرام ہوتا ہے یہ آیت حیات النبی کی کھلی دلیل ہے۔(۳)شب معراج حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیٰ علیہ ا لسلام کو ان کی قبر میں نماز پڑھتے دیکھا۔جب سرکار بیت المقدس پہنچے تو انہیں اور سارے پیغمبروں کو وہاں نماز کا منتظر پایا اور پھر جب آسمانوں پر تشریف لے گئے تو چوتھے آسمان پر موسیٰ علیہ السلام کو اور مختلف آسمانوں پر دیگر انبیاء کو اپنا منتظر دیکھا۔ان قرآنی آیات اور احادیث سے پتہ چلا کہ انبیائے کرام بعد وفات زندہ ہوتے ہیں بلکہ ان پر زندوں کے بعض احکام جاری ہوتے ہیں۔(۴)کہ ان کی بیویاں اور دوسرا نکاح نہیں کر سکتیں۔(۵)ان کی میراث تقسیم نہیں ہوتی۔(۶)حضور



Total Pages: 519

Go To