Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1364 -[11]

وَرَوَى أَحْمَدُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَخْبِرْنَا عَنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مَاذَا فِيهِ مِنَ الْخَيْرِ؟ قَالَ: «فِيهِ خَمْسُ خلال» وسَاق الحَدِيث

اور احمد نے سعد ابن معاذ سے یوں  روایت کی کہ ایک انصاری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا ہمیں جمعہ کے دن کے بارے میں خبر دیجئے کہ اس میں کیا خوبیاں ہیں ۱؎ تو فرمایا اس میں پانچ صفتیں ہیں اور آخر حدیث تک نقل کی۔

۱؎  اس سوال و جواب سے معلوم ہورہا ہے کہ فتویٰ لینا اور دینا صرف فقہی احکام کا ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کے علاوہ اور امور کا بھی ہوتا ہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا علم صرف مسائل میں محدود نہیں۔اﷲ نے آپ کو سارے علوم بخشے۔

1365 -[12]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِأَيِّ شَيْءٍ سُمِّيَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ؟ قَالَ: «لِأَنَّ فِيهَا طُبِعَتْ طِينَةُ أَبِيكَ آدَمَ وَفِيهَا الصَّعْقَةُ وَالْبَعْثَةُ وَفِيهَا الْبَطْشَةُ وَفِي آخِرِ ثَلَاثِ سَاعَاتٍ مِنْهَا سَاعَةٌ مَنْ دَعَا الله فِيهَا اسْتُجِيبَ لَهُ» . رَوَاهُ أَحْمد

 روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں عرض کیا گیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ کس وجہ سے اس دن کا نام جمعہ رکھا گیا فرمایا اس لیئے کہ اس میں تمہارے والد حضرت آدم کی مٹی جمع کی گئی ۱؎  اسی میں بے ہوشی اور اٹھنا ہے اسی میں پکڑ ہے ۲؎ اور اس کی آخری تین گھڑیوں میں ایسی گھڑی ہے جو اس میں اﷲ سے دعا مانگے اس کی قبول ہو۳؎(احمد)

۱؎  اس طرح کہ حضرت ملک الموت نے ہرقسم کی مٹی میں سے ایک ایک مٹھی لی اور اسے ہرقسم کے پانی سے گوندھا،جس دن اس گوندھنے اور خمیر کرنے سے آپ فارغ ہوئے وہ دن جمعہ تھا اسی لیئے بعض شارحین نے طُبِعَتْ کے معنی خُمِّرَتْ کیئے ہیں اور بعض نے جُمِعَتْ، دونوں درست ہیں۔خیال رہے کہ یہ سارے واقعات بعد میں ہونے والے تھے مگر رب تعالٰی نے اول ہی سے اس کا نام جمعہ رکھا۔چنانچہ قرآن کریم نے فرمایا:"لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ"جیسے کہ ہمارے حضورکی تعریفیں آیندہ ہونے والی تھیں تو رب تعالٰی نے اول ہی سے آپ کا نام محمد اور احمد رکھا۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ حضرت آدم کی پیدائش کے بعد اس کا نام جمعہ ہوا۔لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں فرمایا گیا کہ اس دن میں تمام چیزیں خلقت میں جمع ہوئیں۔

۲؎ یعنی قیامت کا پہلا نفخہ بھی جمعہ کو ہوگاجس پر سب فنا یا بے ہوش ہوں گے اور دوسرا نفخہ بھی جمعہ کو ہوگاجس میں سب اٹھیں گے اور رب تعالٰی کا غضب والا فیصلہ کفار کے جہنم میں جانے کا بھی جمعہ کو ہی ہوگا۔پکڑ سے یہ مراد ہے یا جنگ بدر جمعہ کو ہوئی جو کفار کی پکڑ تھی۔خیال رہے کہ قیامت میں نہ سورج ہوگا نہ دن رات لیکن اگر یہ ہوتا اور دن رات ہوتے رہتے تو یہ اٹھنا اور پکڑوغیرہ جمعہ کو ہوتی،لہذا حدیث پر چکڑالوی اعتراض نہیں کرسکتے۔

۳؎ یہاں صاف فرمادیا گیا کہ قبولیت کی گھڑی مغرب سے کچھ پہلے ہے۔تین گھڑیاں فرمانے کا منشا یہ ہے کہ انسان پہلے سے دعا کی تیاری کرے۔

1366 -[13]

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكْثِرُوا الصَّلَاةَ عَلَيَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَإِنَّهُ مَشْهُودٌ تَشْهَدُهُ الْمَلَائِكَةُ وَإِنَّ أحدا لن يُصَلِّي عَلَيَّ إِلَّا عُرِضَتْ عَلَيَّ صَلَاتُهُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهَا» قَالَ: قُلْتُ: وَ بَعْدَ الْمَوْتِ؟ قَالَ:«إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ فَنَبِيُّ اللَّهِ حَيٌّ يُرْزَقُ».رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

 روایت ہے حضرت ابودرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مجھ پر جمعہ کے دن درود زیادہ پڑھو کیونکہ یہ حاضری کا دن ہے جس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں ۱؎ اور مجھ پرکوئی درود نہیں پڑھتا مگر اس کا درود مجھ پر پیش ہوتا ہے حتی کہ اس سے فارغ ہوجائے۲؎  فرماتے ہیں میں نے عرض کیا کیا موت کے بعد بھی فرمایا کہ ا ﷲ نے زمین پر نبیوں کے جسموں کا کھانا حرام کردیا ہے ۳؎ لہذا اﷲ کے نبی زندہ ہیں روزی دیئے جاتے ہیں۴؎(ابن ماجہ)۵؎

 



Total Pages: 519

Go To