$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۳؎ یہاں مؤمن فرمایا گیا پچھلی احادیث میں مسلم،پتہ لگا کہ یہ دونوں لفظ یہاں ہم معنی ہیں۔

۴؎  مگر چونکہ اس کوگزشتہ احادیث سے قوت پہنچ گئی لہذا اب یہ حسن لغیرہ ہے،نیز فضائل اعمال میں حدیث ضعیف بھی قبول ہوتی ہے۔

 

الفصل الثالث

تیسری فصل

1363 -[10]

عَنْ أَبِي لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ سَيِّدُ الْأَيَّامِ وَ أَعْظَمُهَا عِنْدَ اللَّهِ وَهُوَ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ يَوْمِ الْأَضْحَى وَيَوْمِ الْفِطْرِ فِيهِ خَمْسُ خِلَالٍ: خَلَقَ اللَّهُ فِيهِ آدَمَ وَأَهْبَطَ اللَّهُ فِيهِ آدَمُ إِلَى الْأَرْضِ وَفِيهِ تَوَفَّى اللَّهُ آدَمَ وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يَسْأَلُ الْعَبْدُ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ مَا لَمْ يَسْأَلْ حَرَامًا وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ مَا مِنْ مَلَكٍ مُقَرَّبٍ وَلَا سَمَاءٍ وَلَا أَرْضٍ وَلَا رِيَاحٍ وَلَا جِبَالٍ وَلَا بَحْرٍ إِلَّا هُوَ مُشْفِقٌ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ ". رَوَاهُ ابْن مَاجَه

 روایت ہے حضرت ابولبابہ ابن عبدالمنذر سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جمعہ کا دن اﷲ کے نزدیک تمام دنوں کا سردار اور تمام سے بڑا ہے اور وہ اﷲ کے نزدیک عید بقر اور عیدالفطر کے دنوں سےبھی بڑا ہے ۲؎ اس میں پانچ اوصاف ہیں اﷲنے حضرت آدم کو اس میں پیدا کیا اور اﷲنے اس میں حضرت آدم کو زمین کی طرف اتارا اسی میں اﷲ نے حضرت آدم کو وفات دی اور اس میں ایک ساعت ایسی ہے جس میں بندہ کوئی شےنہیں مانگتا مگر رب اسے دیتا ہے جب تک کہ حرام چیز نہ مانگے۳؎ اسی میں قیامت قائم ہوگی کوئی مقرب فرشتہ آسمان،زمین،ہوائیں،پہاڑ،دریا ایسے نہیں جو جمعے کے دن سے خوف نہ کرتے ہوں۴؎(ابن ماجہ)

۱؎ آپ کا نام رفاعہ ہے،انصاری ہیں،اوسی ہیں،بیعت العقبہ میں حاضر ہوئے،بدر میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے مدینہ میں رہے،غنیمت میں آپ کا حصہ رکھا گیا،خلافت مرتضوی میں وفات پائی۔(اکمال)

۲؎ چنانچہ اگر حج جمعہ کو ہو تو اس کا ثواب سترحجوں کا ہے اور حج اکبر کہلاتا ہے اور اگر شب قدر جمعہ کی شب میں ہو تو بہت برتر ہے۔خیال رہے کہ یہاں کلی فضیلت کا ذکر ہے,جزئی فضیلت عیدین کو اس پر حاصل ہے۔خیال رہے کہ یہاں دنوں کا مقابلہ ہے ورنہ شبِ قدر تمام دن راتوں سے بہت بہتر ہے یعنی دن جمعہ سب دنوں سے افضل ہے،لہذا یہ حدیث قرآن کے خلاف نہیں۔

۳؎ حرام یا تو حلال کا مقابل ہے یعنی اس ساعت میں ناجائز دعائیں قبول نہیں ہوتیں یا بمعنی ممنوع اور ناممکن ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَحَرٰمٌ عَلٰی قَرْیَۃٍ"یعنی ناممکن دعا قبول نہیں ہوتی بلکہ ناممکن دعا مانگنا بھی جائز نہیں جیسے کوئی کہے خدایا تو مجھے نبی یا فرشتہ بنا دے۔(مرقاۃ)بہتر ہے کہ اس ساعت میں جامع دعا مانگے جیسے"رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَاحَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ

۴؎ اس کے فوائد پہلے بیان کیئے جاچکےہیں۔اس سے معلوم ہورہا ہے کہ غافل انسان حیوانات،جمادات سےبھی بدتر ہے کہ وہ جمعہ جیسا برکت والا دن غفلت میں گزارتا ہے۔مقرب فرشتوں کو اس دن خوف طبعی ہوتا ہے۔خیال رہے کہ یہاں پانچ کا ذکر حصر کے لیئے نہیں۔ جمعہ کے فضائل بے شمار ہیں جن میں سے بہت کچھ ہم نے اپنی تفسیر میں بیان کیئے۔اس جگہ مرقاۃ نے بھی بہت کچھ بیان کیا۔

1364 -[11]

وَرَوَى أَحْمَدُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَخْبِرْنَا عَنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مَاذَا فِيهِ مِنَ الْخَيْرِ؟ قَالَ: «فِيهِ خَمْسُ خلال» وسَاق الحَدِيث

اور احمد نے سعد ابن معاذ سے یوں  روایت کی کہ ایک انصاری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا ہمیں جمعہ کے دن کے بارے میں خبر دیجئے کہ اس میں کیا خوبیاں ہیں ۱؎ تو فرمایا اس میں پانچ صفتیں ہیں اور آخر حدیث تک نقل کی۔

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html