Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

خیال رہے کہ اولاد کے اعمال ماں باپ پر پیش ہوتے ہیں،مرید کے شیخ پر مگر وہاں پیشی کبھی کبھی ہوتی ہے وہ بھی فقط روح پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ پیشی ہر وقت ہوتی ہے اور روح مع الجسم پر۔(مرقاۃ)

۴؎ لہذا ان کے اجسام زمین کھا سکتی ہی نہیں اور وہ گلنے سے محفوظ ہیں۔قرآن کریم فرمارہا ہے کہ حضرت سلیمان بعد وفات چھ ماہ یا ایک سال نماز کی ہیئت پر لکڑی کے سہارے کھڑے رہے پھر دیمک نے آپ کی لاٹھی تو کھائی لیکن آپ کا پاؤں شریف نہ کھایا۔اس حدیث کی بنا پربعض علماءفرماتے ہیں کہ ایوب علیہ السلام کے زخموں پر جراثیم نہ تھے اور نہ انہوں نے آپ کا گوشت کھایا کوئی اور بیماری تھی کیونکہ پیغمبرکا جسم کیڑا نہیں کھا سکتا۔جنہوں نے یہ واقعہ درست مانا ہے وہ فرماتے ہیں کہ یہ حکم بعد وفات ہے،زندگی میں امتحانًایہ ہوسکتا ہے جیسے تلوار جادو اور ڈنگ ان پر اثر کردیتے ہیں۔شیخ نے فرمایا اس جملہ کے معنی ہیں کہ انبیاءعلیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں،وہ زندگی بھی دنیاوی جسمانی اور حقیقی ہے نہ کہ شہیدوں کی طرح صرف معنوی اور روحانی۔اس کی پوری تحقیق جَذْبُ الْقُلُوْب اور تَارِیْخ مَدِیْنَہْ میں ملاحظہ کیجئے۔(اشعۃ)اور علامہ جلالی الدین سیوطی نے اپنی کتاب شَرْحُ الصُّدُوْرِفِیْ اَحْوَالِ الْقُبُوْرِ میں حیات انبیاء پر بہت ہی نفیس بحث فرمائی ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ یہ حضرات اپنی قبروں میں فرشتوں کی طرح کھانے پینے سے بے نیاز ہیں مگر نمازیں پڑھتے ہیں،قرآن کی تلاوت کرتے ہیں،ذکر اﷲ کی لذت پاتے ہیں۔(مرقاۃ)

۵؎ اس  روایت کو ابن حبان،ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں نقل کیا،حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے،علی شرط بخاری ہے،نووی کہتے ہیں کہ اس کی اسنادصحیح ہیں۔

1362 -[9]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْيَوْمُ الْمَوْعُودُ يَوْمُ الْقِيَامَةِ وَالْيَوْمُ الْمَشْهُودُ يَوْمُ عَرَفَةَ وَالشَّاهِدُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ وَمَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَلَا غَرَبَتْ عَلَى يَوْمٍ أَفْضَلَ مِنْهُ فِيهِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُؤْمِنٌ يَدْعُو اللَّهَ بِخَيْرٍ إِلَّا اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ وَلَا يَسْتَعِيذُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا أَعَاذَهُ مِنْهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا يُعْرَفُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ وَهُوَ يضعف

 روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یوم موعود قیامت کا دن ہے اور یوم مشہود عرفے کا دن ہے اور شاہد جمعے کا دن ۱؎ جمعہ سے بہترکسی دن پر آفتاب طلوع نہیں ہوا ۲؎ اس میں ایک ایسی ساعت ہے جسے کوئی مؤمن اﷲ سے دعا ئے خیر کرتے ہوئے نہیں پاتا مگر اﷲ اسے قبول کرتا ہے اور کسی چیز سے پناہ نہیں مانگتا مگر اﷲ اسے پناہ دیتا ہے ۳؎ (احمد،ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔موسیٰ ابن عبیدہ کے سوا کسی حدیث سے پہچانی نہ گئی اور وہ ضعیف مانے جاتے ہیں۴؎

۱؎ یعنی سورۂ بروج میں جو فرمایا گیا کہ "وَالْیَوْمِ الْمَوْعُوۡدِ وَشَاہِدٍ وَّمَشْہُوۡدٍ"۔اس میں یہ تین دن مراد ہیں کہ قیامت مومنوں کے وعدوں کا دن ہے اور کافروں کی وعیدوں کا اوربقرعید کی نویں یعنی عرفہ وہ دن ہے جو سب مسلمانوں کو عرفات میں بلاتا ہے اور جمعہ خود مومنوں کے گھروں میں پہنچ جاتا ہے لہذا عرفہ مشہود ہوا اور جمعہ شاہد۔اس کی اور بہت تفسیریں ہیں جو ہم نے اپنی تفسیر"نورالعرفان"میں بیان کی ہیں،وہاں مطالعہ کیجئے۔

۲؎ یعنی تمام دنوں سے جمعہ بہتر ہے۔حضرت امام مالک جو فرماتے ہیں کہ سوموار افضل ہے ان کی مراد جزئی فضیلت ہے لہذا ان کا وہ فرمان اس حدیث کے خلاف نہیں،ان کا مطلب یہ ہے کہ دو شنبہ کے طفیل ہمیں جمعہ ملا۔

 



Total Pages: 519

Go To