Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1360 -[7]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْتَمِسُوا السَّاعَةَ الَّتِي تُرْجَى فِي وَيَوْم الْجُمُعَةِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَى غَيْبُوبَةِ الشَّمْسِ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

 روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ وہ ساعت جس کی جمعہ کے دن امید کی جاتی ہے وہ عصر کے بعد سے آفتاب ڈوبنے تک ڈھونڈو ۱؎(ترمذی)

۱؎ خیال رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس ساعت سے خبردار ہیں آپ پرکون سی چیز چھپے گی۔یہ ساعت بلکہ ساری ساعتیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ سے بنیں،چونکہ یہ اسرار الہیہ میں سے ہے اس لیئے اس کا اظہار نہ فرمایا جیسے شب قدر تاکہ لوگ اس کی تلاشی میں عبادتیں زیادہ کریں۔مرقاۃ نے فرمایا کہ شاید جمعہ میں قبولیت کی ساعتیں بہت ہیں مگر شاندار ساعت پوشیدہ ہے یا گھومتی رہتی ہےکسی جمعہ میں کسی وقت اور کسی جمعہ میں دوسرے وقت۔

1361 -[8]

وَعَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ قُبِضَ وَفِيهِ النَّفْخَةُ فأكثرا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَليّ» فَقَالُوا: يَا رَسُول الله وَكَيف تعرض صَلَاتنَا عَلَيْك وَقَدْ أَرَمْتَ؟ قَالَ: يَقُولُونَ: بَلِيتَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعْوَات الْكَبِير

 روایت ہے حضرت اوس ابن اوس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تمہارے بہترین دنوں میں سے جمعہ کا دن ہے اس میں حضرت آدم پیدا ہوئے اور اسی میں وفات دیئے گئے اور اسی میں صور پھونکنا ہے اور اسی میں بے ہوشی ہے لہذا اس دن میں مجھ پر درود زیادہ پڑھو ۱؎ کیونکہ تمہارے درود مجھ پر پیش ہوتے ہیں ۲؎ لوگ بولے یارسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درود آپ پر کیسے پیش ہوں گے آپ تو رمیم ہوچکے ہوں گے(یعنی گلی ہڈی)۳؎ فرمایا کہ اﷲنے زمین پر انبیاء کے جسم حرام کردیئے ۴؎ (ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،دارمی۔بیہقی،دعوات کبیر)۵؎

۱؎ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جس تاریخ اور جس دن میں کوئی ا ہم واقعہ کبھی ہوجائے وہ دن اور تاریخ تاقیامت اہم بن جاتی ہے۔دوسرے یہ کہ اس دن اور اس تاریخ میں ان واقعات کی یادگار یں قائم کرنا بہتر ہے۔تیسرے یہ کہ وہ یادگاریں عبادات سے قائم کی جائیں نہ کہ لہو اور کھیل کود سے،یعنی اس دن زیادہ عبادتیں کی جائیں۔میلاد شریف،گیارھویں شریف،عید معراج،عرس بزرگاں کا یہی مقصد ہے اور ان سب کی اصل یہ حدیث اور قرآن شریف کی یہ آیتیں ہیں،دیکھو "جاءالحق"حصہ اول۔

۲؎ یعنی جمعہ کا دن تمام دنوں سے افضل کہ اس میں ایک نیکی کا ثواب ستر۷۰ گناہے اور درود دوسری عبادتوں سے افضل،لہذا افضل دن میں افضل عبادت کروکیونکہ اس دن کا درود خصوصی طور پر ہماری بارگاہ میں پیش ہوتا ہے اور ہم قبول فرماتے ہیں۔خیال رہے کہ ہمیشہ ہی درود شریف حضورصلی اللہ علیہ وسلم پر پیش ہوتاہے مگر جمعہ کے دن خصوصی پیشی ہوتی ہے،خصوصی قبولیت۔(مرقاۃ)

۳؎ یہ سوال انکار کے لیئے نہیں بلکہ کیفیت پوچھنے کے لیئے ہے،یعنی آپ کی وفات کے بعد ہمارے درودوں کی پیشی فقط آپ کی روح شریف پر ہوگی یا روح مع الجسم پر جیسے زکریا علیہ السلام نے رب تعالٰی کی طرف سے بیٹے کی خوش خبری پاکر عرض کیا تھا خدایا میرے بیٹا کیسے ہوگا؟میں بوڑھا ہوں،میری بیوی بانجھ۔یہ سوال بھی کیفیت پوچھنے کے لیئے ہے نہ کہ انکارًا،لہذا اس پر روافض کوئی اعتراض نہیں کرسکتے۔



Total Pages: 519

Go To