Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1359 -[6]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى الطُّورِ فَلَقِيتُ كَعْبَ الْأَحْبَارِ فَجَلَسْتُ مَعَهُ فَحَدَّثَنِي عَنِ التَّوْرَاةِ وَحَدَّثْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ فِيمَا حَدَّثْتُهُ أَنْ قُلْتُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُهْبِطَ وَفَيْهِ تِيبَ عَلَيْهِ وَفِيهِ مَاتَ وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ وَمَا من دَابَّة إِلَّا وَهِي مسيخة يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينِ تُصْبِحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ وفيهَا سَاعَةٌ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يسْأَل الله شَيْئا إِلَّا أعطَاهُ إِيَّاهَا. قَالَ كَعْبٌ: ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ. فَقلت: بل فِي كل جُمُعَة قَالَ فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ. فَقَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُهُ بِمَجْلِسِي مَعَ كَعْب وَمَا حَدَّثْتُهُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَقُلْتُ لَهُ: قَالَ كَعْب: ذَلِك كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: كَذَبَ كَعْبٌ. فَقُلْتُ لَهُ ثُمَّ قَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ. فَقَالَ: بَلْ هِيَ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: صَدَقَ كَعْبٌ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَة فَقلت لَهُ: فَأَخْبرنِي بهَا. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ: وَكَيْفَ تَكُونُ آخِرَ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي وَتلك السَّاعَة لَا يُصَلِّي فِيهَا؟» فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ؟» قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقلت: بلَى. قَالَ: فَهُوَ ذَاك. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوَى أَحْمد إِلَى قَوْله: صدق كَعْب

 روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں طور کی طرف گیا ۱؎ تو کعب احبار ۲؎ سے ملا ان کے پاس بیٹھا انہوں نے مجھے تورات کی باتیں سنائیں اور میں نے انہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں۳؎ جو حدیثیں میں نے انہیں سنائیں ان میں یہ بھی تھا کہ میں نے کہا فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہترین وہ دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے اسی میں آدم علیہ السلام پیدا ہوئے،اسی میں اتارے گئے،اسی میں ان کی توبہ قبول ہوئی،اسی میں وفات پائی،اسی میں قیامت قائم ہوگی۴؎ ایسا کوئی جانور نہیں جو جمعہ کے دن صبح سے آفتاب نکلنے تک قیامت کا ڈرتے ہوئے منتظر نہ ہو ۵؎ جن و انس کے سواءاور اس میں ایک ایسی ساعت ہے جسے کوئی مسلمان نماز پڑھتے ہوئے نہیں پاتا کہ اﷲ سے کچھ مانگ لے مگر رب اسے دیتا ہے کعب بولے کہ یہ ہر سال میں ایک بار ہے میں نے کہا بلکہ ہر جمعہ میں ہے تو کعب نے توریت پڑھی تو بولے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ۶؎ ابوہریرہ کہتے ہیں کہ میں عبداﷲ ابن سلام سے ملا تو میں نے انہیں کعب کے پاس بیٹھنے اور جو کچھ میں نے ان سے جمعہ کے بارے میں گفتگو کی سنائی میں نے کہا کہ کعب بولے یہ ہر سال میں ایک دن ہے تو عبداﷲ ابن سلام نے فرمایا کہ کعب نے غلط کہا ۷؎ تب میں نے ان سے کہا پھر کعب نے توریت پڑھی تو فرمایا بلکہ وہ ہر جمعہ میں ہے تب عبداﷲ ابن سلام بولے کہ کعب نے سچ کہا ۸؎ پھر عبداﷲ ابن سلام نے فرمایا میں جانتا ہوں کہ وہ کون سی ساعت ہے ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا وہ مجھے بتادیجئے اور بخل نہ کیجئے ۹؎ عبداﷲ ابن سلام نے فرمایا کہ وہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہے ۱۰؎ ابوہریرہ فرماتے ہیں میں بولا کہ وہ جمعہ کی آخری ساعت کیسے ہوسکتی ہے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان بندہ اسے نماز پڑھتے ہوئے پائے ۱۱؎ عبدا ﷲ ابن سلام بولے کہ کیا رسول ا ﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ جو کسی جگہ نماز کے انتظار میں بیٹھے تو وہ نماز پڑھنے تک نماز ہی میں ہے ابوہریرہ فرماتے ہیں میں نے کہا ہاں فرمایا وہ یہی ہے ۱۲؎(مالک، ابوداؤد،ترمذی،نسائی)اور احمد نے صدق کعب تک  روایت کی۔

۱؎ ظاہر یہ ہے کہ طور سے مراد وہ مشہور طور پہاڑہی ہے جہاں موسیٰ علیہ السلام رب تعالٰی سے ہم کلام ہوتے تھے۔

۲؎ آپ کا نام کعب ابن مانع،کنیت ابو اسحاق،قبیلہ حمیر سے ہیں،یہود کے بڑے مشہور عالم تھے،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا مگر ملاقات نہ کرسکے،عہد فارقی میں ایمان لائے اور خلافت عثمانی  ۳۲ھ؁ مقام حمص میں وفات پائی لہذا آپ تابعین میں سے ہیں۔

 



Total Pages: 519

Go To