Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

زرارہ کو امام بنا کر ان کے پیچھے دو رکعتیں ادا کیں اور اس دن کا نام بجائے عروبہ کے جمعہ رکھا،اس کی تائید ابن خزیمہ کی اس حدیث سے ہوتی ہے کہ انصار کہتے ہیں سعد ابن زرارہ وہ ہیں جنہوں نے ہجرت سے پہلے ہمیں مدینہ میں جمعہ پڑھایا اس بنا پر یہاں فَھَدٰنَا اللهُ کے معنی یہ ہوں گے کہ رب تعالٰی نے میری امت کے خیال کو صحیح فرمایا۔خیال رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سوموار کو پہنچے اورجمعرات تک بنی عمرو ابن عوف میں مقیم رہے،پھر وہاں سے جمعہ کے دن بنی سالم ابن عوف میں تشریف لائے اور اس مسجد میں جمعہ پڑھا جو بطن وادی میں ہے۔یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا جمعہ تھا جو اس مسجد میں ادا ہو ا۔فقیر نے اس کی زیارت کی ہے اور وہاں دو نفل پڑھے ہیں،مسجد قبا کے راستہ میں ہے شکستہ حال ہے۔

۴؎ یعنی ہفتہ کا پہلا دن جمعہ ہمیں ملا اور دوسرا دن یعنی شنبہ یہودیوں کو اور تیسرا دن اتوار یہ عیسائیوں کو جیسے ہمارا دن ان کے دنوں سے پہلے ہے ایسے ہی ہم بھی ان پر مقدم۔اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ ہفتہ جمعہ سے شروع ہوتا ہے اور پنج شنبہ پر ختم۔

۵؎ اس طرح کہ نبیوں سے پہلے جنت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم جائیں گے اورامتوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پہلے جائے گی،پھر دوسری امتیں۔

1355 -[2]

وَفِي رِوَايَة لمُسلم عَن أبي هُرَيْرَة وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ: «نَحْنُ الْآخِرُونَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا وَالْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمقْضِي لَهُم قبل الْخَلَائق»

اور اس کی دوسری  روایت میں انہیں سے اور حضرت حذیفہ سے ہے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث کے آخر میں یہ ہے کہ ہم دنیا والوں سے پیچھے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہوں گے کہ ہمارا فیصلہ مخلوق سے پہلے ہوگا ۱؎

۱؎ یہ حدیث گزشتہ حدیث کی شرح ہے جس نے بتایا کہ پیچھے ہونے سے یہ مراد اور پہلے ہونے سے یہ مطلب۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت قیامت میں ہر موقعہ پر آگے رہے گی کیوں نہ ہو کہ اصل مقصود یہ امت ہے باقی اس کے تابع۔(مرقاۃ)

1356 -[3]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ وَفِيه أخرج مِنْهَا وَلَا تقوم السَّاعَة لَا فِي يَوْم الْجُمُعَة» . رَوَاهُ مُسلم

 روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بہترین وہ دن جس میں سورج نکلے وہ جمعہ کا دن ہے اسی میں حضرت آدم پیدا ہوئے اسی دن جنت میں گئے اسی دن وہاں سے بھیجے گئے اور قیامت بھی جمعہ کے دن ہی ہوگی ۱؎ (مسلم)

۱؎ یعنی پہلے بھی بڑے بڑے واقعات اس دن میں ہی ہوئے اور آئندہ نہایت اہم اورسنگین واقعہ وقوع قیامت کا اسی دن ہوگا اس لیئے یہ دن بڑی عظمت والا ہے۔خیال رہے کہ آدم علیہ السلام کا جنت میں جانابھی اﷲ کی رحمت تھی اور وہاں سے تشریف لانا بھی کیونکہ وہاں سیکھنے گئے تھے،یہاں سکھانے اور خلافت کرنے آئے۔اس سے معلوم ہوا کہ جس دن میں دینی اہم واقعات ہوچکے ہوں وہ دن تاقیامت افضل ہوجاتا ہے اور اس دن میں خوشیاں منانا،عبادتیں کرنا بہتر ہوتا ہے،دیکھو ماہ رمضان و شب قدر اس لیئے افضل ہیں کہ ان میں قرآن شریف نازل ہوا۔مسلمان کاعقیدہ ہے کہ شب ولادت،شب معراج وغیرہ سب افضل راتیں ہیں۔ان میں عبادات کرنا،خوشیاں منانا بہتر ہے،اس کا ماخذ یہ حدیث ہے۔

1357 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أعطَاهُ إِيَّاه. وَزَاد مُسلم: «وَهِيَ سَاعَةٌ خَفِيفَةٌ».وَفِي رِوَايَةِ لَهُمَا قَالَ:«إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ قَائِم يُصَلِّي يسْأَل لاله يخرا إِلَّا أعطَاهُ إِيَّاه»

 روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جمعہ میں ایک گھڑی ہے جسے بندہ مؤمن نہیں پاتا کہ اس میں اﷲ سے خیر مانگے مگر اﷲ اسے وہ ضرور دیتا ہے ۱؎(مسلم، بخاری)مسلم نے زیادہ کیا فرمایا وہ چھوٹی سی گھڑی ہے۔ اور مسلم،بخاری کی ایک  روایت میں ہے کہ فرمایا جمعہ میں ایک ساعت ہے جسے مسلمان نہیں پاتا کہ کھڑا ہو ا نماز پڑھتا ہو اﷲ سے خیر مانگے مگر اﷲ اسے ضرور دیتا ہے۲؎

 



Total Pages: 519

Go To