Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

باب الجمعۃ

جمعہ کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  جمعہ  ج اور م کے پیش سے،جَمْع ٌسے بنا،بمعنی مجتمع ہونا،اکٹھا ہونا۔چونکہ اس دن میں تمام مخلوقات وجودمیں مجتمع ہوئی کہ تکمیلِ خلق اسی دن ہوئی،نیز حضرت آدم علیہ السلام کی مٹی اس دن ہی جمع ہوئی،نیز اس دن میں لوگ نماز جمعہ جمع ہوکر ادا کرتے ہیں ان وجوہ سے اسے جمعہ کہتے ہیں۔اسلام سے پہلے اہل عرب اسےعروبہ کہتے تھے۔چنانچہ ان کے ہاں ہفتہ کے دنوں کے نام حسب ذیل تھے: اوّل،اَہْوَن،جُبار،دبار،مونس،عروبہ،شیاء۔(اشعہ)نماز جمعہ فرض ہے،شعار اسلام میں سے ہے،اس کی فرضیت کا منکر کافر ہے مگر اس کی فرضیت کے لئے کچھ شرائط ہیں۔چنانچہ یہ نماز مسلمان،مرد،عاقل،بالغ،آزاد،تندرست،شہری پر فرض ہے اس کی ادا کے لیئے جماعت،آزاد جگہ،شہر اور خطبہ شرط ہیں۔نہ گاؤں والوں پر جمعہ فرض ہے اور نہ گاؤں میں جمعہ ادا ہو۔اس کے مکمل دلائل ہمارے"فتاویٰ نعیمیہ"میں دیکھو۔

1354 -[1] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكُتَّابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ من بعدهمْ ثمَّ هَذَا يومهم الَّذِي فرض عَلَيْهِم يَعْنِي يَوْم الْجُمُعَةَ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ فَهَدَانَا اللَّهُ لَهُ وَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ الْيَهُودُ غَدًا وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَد»وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: «نَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَنَحْنُ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بيد أَنهم» . وَذكر نَحوه إِلَى آخِره

 روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہم دنیا میں پیچھے ہیں قیامت کے دن آگے ہوں گے ۱؎ بجز اس کے کہ انہیں کتاب ہم سے پہلے دی گئی اور ہمیں ان کے بعد۲؎ پھر یہ یعنی جمعہ کا ان کا دن بھی تھا جو ان پر فرض کیا گیا تھا وہ اس میں اختلاف کر بیٹھےہمیں اﷲنے اس کی ہدایت دے دی ۳؎ اس میں لوگ ہمارے تابع ہیں یہودی کل ہیں عیسائی پرسوں ۴؎ (مسلم،بخاری)مسلم کی  روایت میں ہے کہ ہم پیچھے ہیں اور قیامت کے دن آگے جنت میں ہم ہی پہلے جائیں گے۵؎ اور اس کے سواء کہ انہیں الخ۔

۱؎ یعنی میں اور میری امت یہاں وجود میں پیچھے ہیں کہ ہم آخری نبی اور یہ امت آخری امت اور وہاں شہود میں پہلے ہوں گے کہ سب سے پہلے ہماری امت کا فیصلہ ہوگا اور ساری امتوں سے پہلے یہی جنت میں جائے گی۔

۲؎یعنی یہود و نصاریٰ کو توریت و انجیل ہم سے پہلے مل گئی،ہمیں قرآن بعد میں دیا گیا تاکہ قرآن ناسخ ہو وہ کتابیں منسوخ اور ان کے عیوب ہم کو معلوم ہوں اور اس امت کے عیوب پوشیدہ رہیں اس کے بعدیت میں بھی اﷲ کی رحمت ہے۔

۳؎ یعنی عظمت والا دن اﷲ تعالٰی کے نزدیک جمعہ ہی ہے۔رب تعالٰی چاہتاتھا کہ میرے بندے یہ دن میری عبادت کے لیئے خالی رکھیں مگر یہودونصاریٰ کو بتایا نہ گیا بلکہ انہیں اختیار دیا گیا کہ تم جو دن چاہو اپنی عبادت کے لیئے چن لو۔یہود نے ہفتہ منتخب کرلیا،نصاریٰ نے اتوار،جمعہ کی طرف کسی کا خیال نہ گیا،اﷲ تعالٰی نے یہ انتخاب ہم پر نہ چھوڑا بلکہ ہمیں خود جمعہ بتادیا گیاتاکہ ہم انتخاب میں غلطی نہ کریں،بلکہ مرقات نے ابن سیرین سے  روایت فرمائی کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے پہلے مدینہ کے انصار نے سوچا کہ جب یہودیوں اور عیسائیوں کا عبادت کا دن مقرر ہے تو ہم بھی کوئی دن کیوں نہ مقرر کرلیں۔ا نہوں نے جمعہ کے دن حضرت سعد ابن



Total Pages: 519

Go To