Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1351 -[19]

وَعَن مَالك بَلَغَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَقْصُرُ فِي الصَّلَاة فِي مثل مَا يكون بَين مَكَّة والطائف وَفِي مثل مَا يكون بَيْنَ مَكَّةَ وَعُسْفَانَ وَفَى مِثْلِ مَا بَيْنَ مَكَّةَ وَجُدَّةَ قَالَ مَالِكٌ: وَذَلِكَ أَرْبَعَةُ بُرُدٍ. رَوَاهُ فِي الْمُوَطَّأ

روایت ہے حضرت مالک سے انہیں خبرپہنچی کہ حضرت ابن عباس اس قدرمسافت میں نماز قصر کرتے تھے جو مکہ اور طائف،مکہ اورعسفان اور مکہ اور جدے کے درمیان ہے ۱؎ امام مالک فرماتے ہیں کہ یہ مسافت چار برید ہے ۲؎(مؤطا)

۱؎ یعنی اس سے کم مسافت میں قصر نہ کرتے تھے۔معلوم ہوا کہ سفرکے لیئے سفر کی حد مقرر ہے فقط گھر سے نکل جانے پر سفر نہیں ہوجاتا جیسا بعض عقلمندوں نے سمجھا۔خیال رہے کہ عسفان مکہ معظمہ سے مدینہ کی راہ پر دو منزل ہے اور جدہ بڑا شہر ہے مکہ معظمہ سے تقریبًا ۶۵ میل ہے،یہ فقط تشبیہ ہے تعیین نہیں۔

۲؎  ایک برید چار کوس کا ہے لہذا چار برید سولہ کوس ہوئے اور عرب کا ایک کوس تین میل عربی ہے،لہذا سولہ کوس۴۸میل عربی ہوئے،ایک میل چھ ہزارگز کا ایک گزچوبیس انگل کا۔(لمعات)اعلیٰ حضرت رحمۃ اﷲ علیہ کی تحقیق یہ ہے کہ انگریزی میل سے یہ مسافت ۵۷ میل بنتی ہے۔

1352 -[20]

وَعَن الْبَراء قَالَ: صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَفَرًا فَمَا رَأَيْتُهُ تَرَكَ رَكْعَتَيْنِ إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ الظُّهْرِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

روایت ہے حضرت براءسے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھارہ سفروں میں رہا میں نے آپ کو نہ دیکھا کہ آپ نے سورج ڈھلنے کے بعد ظہر کے پہلے کی دو رکعتیں چھوڑی ہوں ۱؎(ابوداؤد،ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

۱؎ یعنی تحیۃ الوضو کے نفل اور ظاہر ہے کہ جب حضورصلی اللہ علیہ وسلم سفرمیں نفل نہیں چھوڑتے تو سنت مؤکدہ کیسے چھوڑتے ہوں گے۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جوسفرمیں سنت ونفل پڑھنے کے سخت دشمن ہیں۔

1353 -[21]

وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَرَى ابْنَهُ عُبَيْدَ اللَّهِ يَتَنَفَّلُ فِي السَّفَرِ فَلَا يُنْكِرُ عَلَيْهِ. رَوَاهُ مَالِكٌ

روایت ہےحضرت نافع سےفرماتے ہیں کہ حضرت عبداﷲ ابن عمر اپنے بیٹے عبیداﷲ کو سفرمیں نفل پڑھتے دیکھتے تھے تو ان پر اعتراض نہ کرتے ۱؎(مالک)

۱؎ کیونکہ سفرمیں نفل پڑھنا سنت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہے،آپ کے صاحبزادے سواری پر ہی نفل پڑھتے تھے یا زمین پر جب پڑھتے جب وقت میں گنجائش ہوتی اس لیئے آپ اعتراض نہ کرتے تھے،جن پر اعتراض کیا ہے وہ وہ حضرات تھے جونفل کی وجہ سے منزل کھوٹی کررہے تھے۔تتمہ:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کی مدت مسافر کے لیئے تین دن مقرر فرمائی،نیزعورت پر بغیر محرم تین دن کی مسافت پرجانا حرام کیا۔ان احادیث سےمعلوم ہوتا ہے کہ سفر کی مسافت تین دن کی راہ ہے،یہی احناف کا مذہب ہے۔


 



Total Pages: 519

Go To