Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

تو روایت فرماتی ہیں کہ نمازسفر پہلے فریضہ پر رکھی گئی یعنی دو،دو رکعتیں تو خود اپنی روایت کے خلاف یہ رائے کیسے قائم کرسکتی ہیں۔دوسرے یہ کہ اگر آپ قصر و اتمام دونوں جائز سمجھتیں تو ہرسفرمیں کبھی قصرکرتیں کبھی اتمام مگر ایسا نہ کیا صرف منٰی میں اتمام کیا اور ہمیشہ کیا یہاں کبھی قصر نہ پڑھا اور دوسرے سفروں میں ہمیشہ اتمام کیا۔تیسرے یہ کہ اگر انکا یہ مذہب ہوتا تو حضرت زہری اسے تاویل نہ فرماتے بلکہ اسے ان کا مذہب قرار دیتے۔معلوم ہوا کہ آپ کا مذہب تو وجوب قصر کا تھا مگر منٰی میں کسی تاویل کی بناء پر اتمام فرماتیں وہ تاویل کیا تھی رب جانے۔ظاہر یہ ہے کہ آپ مکہ معظمہ میں پندرہ دن قیام کی نیت کرلیتیں ہوں گی اور آپ کا خیال یہ ہوگا کہ مہاجرین کو پندرہ دن مکہ معظمہ میں ٹھہرنا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی حیات شریف میں منع تھا آپ کی وفات کے بعد جائز ہے،یہ ممانعت مہاجرمردوں کے لیئےتھی عورتوں کے لیئے نہیں یا ان کے لیئے تھی جوبوقت ہجرت بالغ تھے،میں اس وقت نابالغہ تھی۔وَاﷲُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ!

1349 -[17]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: فَرَضَ اللَّهُ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَفِي الْخَوْف رَكْعَة. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابن عباس سےفرماتے ہیں کہ اللہ نے تمہارے نبی کی زبان پر(صلے اﷲ علیہ وسلم)نماز حضر میں چار رکعتیں،سفر میں دو رکعتیں اور خو ف میں ایک رکعت فرض کی ۱؎(مسلم)

۱؎ اس طرح کہ غازی مسافرسخت خوف کی حالت میں امام کے پیچھے صرف ایک رکعت پڑھےگا اور ایک رکعت اکیلے جیساکہ قران شریف سے معلوم ہورہا ہے۔اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ سفرمیں قصرکرنا ایسے ہی فرض ہے جیسے حضر میں پوری پڑھنا،قصر و اِتمام کا اختیار نہیں۔

1350 -[18]

وَعَن ابْن عَبَّاس وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَا: سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ وَالْوِتْرُ فِي السَّفَرِ سنة. رَوَاهُ ابْن مَاجَه

روایت ہے انہی سے اورحضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نےسفرکی نماز میں دو رکعتیں شروع کیں وہ دونوں پوری ہیں کوتاہ نہیں ۱؎ اور وتر سفر میں سنت اسلام ہے ۲؎(ابن ماجہ)

۱؎ یعنی سفر میں دو رکعتیں ہی مشروع ہیں چار رکعتیں غیر مشروع یعنی خلاف شرع اور یہ دو رکعتیں ایسی ہی مکمل ہیں جیسےحضر میں چار اور انہیں چار پڑھنا ایسا ہی بُرا ہے جیسے فجر کے چار فرض یا گھر میں ظہر کے چھ فرض پڑھنا یا یہ مطلب ہے کہ یہ دو رکعتیں تعداد میں قصر ہیں ثواب میں نہیں ان پر ثواب پوری چار رکعتوں کا ملے گا۔(لمعات)

۲؎ یہاں سنت سے مراد واجب کا مقابل نہیں۔یہ مطلب نہیں کہ سفرمیں وتر پڑھنا سنت ہے ورنہ وہاں نوافل اور دیگر سنن پڑھنا بھی سنت ہیں وتر کی کیا خصوصیت ہے،بلکہ مطلب یہ ہے کہ سفر میں وتر پڑھنا اسلام کا دائمی طریقہ ہے۔(لمعات)

1351 -[19]

وَعَن مَالك بَلَغَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَقْصُرُ فِي الصَّلَاة فِي مثل مَا يكون بَين مَكَّة والطائف وَفِي مثل مَا يكون بَيْنَ مَكَّةَ وَعُسْفَانَ وَفَى مِثْلِ مَا بَيْنَ مَكَّةَ وَجُدَّةَ قَالَ مَالِكٌ: وَذَلِكَ أَرْبَعَةُ بُرُدٍ. رَوَاهُ فِي الْمُوَطَّأ

روایت ہے حضرت مالک سے انہیں خبرپہنچی کہ حضرت ابن عباس اس قدرمسافت میں نماز قصر کرتے تھے جو مکہ اور طائف،مکہ اورعسفان اور مکہ اور جدے کے درمیان ہے ۱؎ امام مالک فرماتے ہیں کہ یہ مسافت چار برید ہے ۲؎(مؤطا)

 



Total Pages: 519

Go To