$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوکبھی غیر وقت میں نماز پڑھتے نہ دیکھاحالانکہ آپ غزوہ تبوک میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ کے ساتھ باجماعت نمازیں اس موقعہ پر ادا کرتے رہے،چونکہ حضرت ابن مسعود معاذ ابن جبل سے زیادہ فقیہ بھی ہیں اور زیادہ حافظ بھی اس لیئے ان کی حدیث کو زیادہ ترجیح ہوگی۔تیسرے یہ کہ یہ حدیث آیت قرآنی جو ہم پیش کرچکے اور ان متواتر احادیث کے خلاف ہے جن میں نماز کے اوقات کا ذکر ہے لہذا یہ حدیث ہرگز قابل عمل نہیں۔خیال رہے کہ عرفہ اور مزدلفہ میں نمازیں اپنے وقت سے نہ ہٹیں بلکہ وقت اپنی حدود سے ہٹ گئے اس طرح کہ عرفہ میں وقت عصر ظہر میں آگیا نہ کہ نماز عصر وقت ظہر میں اور مزدلفہ میں وقت مغرب عشاء میں پہنچ گیا نہ کہ مغرب وقت عشاء میں حتی کہ اگر کوئی حاجی اس دن مغرب عشاء کے وقت سے پہلے پڑھ لے تو ہوگی ہی نہیں،نیز وہ احادیث متواتر المعنی ہیں۔یہ فرق خیال میں رہے بہت باریک ہے۔

1345 -[13]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ وَأَرَادَ أَنْ يَتَطَوَّعَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ بِنَاقَتِهِ فَكَبَّرَ ثُمَّ صَلَّى حَيْثُ وَجهه ركابه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفرکرتے اورنفل پڑھنا چاہتے تو اپنی اونٹنی پر قبلہ رو ہوجاتے پھرتکبیر کہتے پھر نماز پڑھتے رہتے اب آپ کو سواری جدھربھی متوجہ کرتی ۱؎(ابوداؤد)

۱؎ یعنی تکبیرتحریمہ کے وقت رو بقبلہ ہوجاتے،پھر بعدمیں رخ بدل جانے کی پرواہ نہ کرتے،اب بھی سفر میں نوافل کا یہی حکم ہے۔خیال رہے کہ سرکار اونٹنی کو قبلہ کی طرف نہ پھیرتے تھے ورنہ سفر غلط ہوجاتا بلکہ اونٹنی کا رخ جانب سفررہتا اپنا رخ جانب قبلہ۔

1346 -[14]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَجِئْتُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَيَجْعَلُ السُّجُودَ أَخفض من الرُّكُوع. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی کام میں بھیجا جب میں آیا تو آپ اپنی سواری پرمشرق کی طرف نماز پڑھ رہے تھے اور سجدہ رکوع سے زیادہ پست کرتے تھے ۱؎(ابوداؤد)

۱؎  یعنی قبلہ جانب جنوب تھا مگر آپ کی نماز جانب مشرق ادا ہورہی تھی اور رکوع،سجدہ اشارے سے کررہے تھے اس طرح کہ رکوع کے لیئے سرکم جھکاتے اور سجدے کے لیئے زیادہ۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

1347 -[15] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بمنى رَكْعَتَيْنِ وَأَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ وَعُمَرُ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ وَعُثْمَانُ صَدَرًا مِنْ خِلَافَتِهِ ثُمَّ إِنَّ عُثْمَانَ صَلَّى بَعْدُ أَرْبَعًا فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ صَلَّى أَرْبَعًا وَإِذَا صلاهَا وَحده صلى رَكْعَتَيْنِ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے منٰی میں دو رکعتیں پڑھیں آپ کے بعد ابوبکر نے اور حضرت ابوبکر کے بعد حضرت عمر نے حضرت عثمان نے اپنی شروع خلافت میں ۱؎ پھر اس کے بعد حضرت عثمان نے چار پڑھیں ۲؎ ابن عمر جب امام کے ساتھ نماز پڑھتے تو چار پڑھتے اور جب اکیلے نماز پڑھتے تو دو رکعتیں پڑھتے۳؎ (مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html