Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1343 -[11]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ فِي الْحَضَرِ الظُّهْرَ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّيْتُ مَعَهُ فِي السَّفَرِ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ وَلَمْ يُصَلِّ بَعْدَهَا شَيْئًا وَالْمَغْرِبُ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ سَوَاءٌ ثَلَاثُ رَكَعَاتٍ وَلَا يَنْقُصُ فِي حَضَرٍ وَلَا سَفَرٍ وَهِيَ وِتْرُ النَّهَارِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہےحضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں ظہر دو رکعت پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعتیں اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضر و سفر میں نماز پڑھی آپ کے ساتھ حضر میں ظہر چار رکعتیں پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں اور آپ کے ساتھ سفر میں ظہر دو رکعتیں پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعتیں ۱؎ اور عصر دو رکعتیں پڑھیں اورپھر اس کے بعد کچھ نہ پڑھا اور مغرب حضر و سفر میں برابر تین رکعتیں ہی پڑھیں نہ حضر میں کم کیں اور نہ سفر میں یہ دن کے وتر ہیں اور اس کے بعد دو رکعتیں ۲؎ (ترمذی)

۱؎ اس سے صاف معلوم ہوا کہ سفرمیں صرف فرض میں قصر ہوگا سنتوں میں نہ قصر ہے نہ ان کے منافی۔یہ حدیث گزشتہ حدیث ابن عمر کی شرح ہے جس میں فرمایا گیا تھا کہ حضرت ابن عمر سفر میں نماز نفل پڑھنے والوں پر ناراض ہوئے۔

۲؎ یعنی مغرب کے فرض دن کے وتر ہیں،ان میں قصرنہیں کہ قصر چار رکعت میں ہوتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ رات کے وتربھی تین ہیں۔

1344 -[12]

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ: إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَإِنِ ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَنْزِلَ لِلْعَصْرِ وَفِي الْمَغْرِبِ مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَإِنِ ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَنْزِلَ لِلْعِشَاءِ ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں تھے جب کوچ سے پہلےسورج ڈھل جاتا تو ظہر اورعصر جمع کرلیتے ۱؎ اور اگر سورج ڈھلنے سے پہلےکوچ کردیتے تو ظہر پیچھے کرتے حتی کہ عصر کے لیے اترتے۲؎ یونہی مغرب میں جب کوچ سے پہلے سورج چھپ جاتا تو مغرب اورعشاء جمع کرلیتے اور اگر سورج چھپنے سے پہلے کوچ کرتے تو مغرب میں دیر لگاتے حتی کہ عشاء کے لیئے اترتے پھر ان دونوں کو جمع فرمالیتے۳؎(ابوداؤد،ترمذی)

۱؎ اس طرح کہ عصر کے وقت میں پڑھ لیتے،اس کا نام جمع تقدیم ہے یعنی نماز اپنے وقت سے پہلے ادا کرلینا۔

۲؎  اور ظہرعصر کے وقت پڑھتے اس کا نام جمع تاخیر ہے یعنی نماز کا وقت کے بعد پڑھنا۔

۳؎ یہاں جمع حقیقی ہی مراد ہے جمع صوری کا اس میں احتمال نہیں۔یہ حدیث امام شافعی کی انتہائی دلیل ہے کہ سفر میں جمع تقدیم بھی جائز ہے اور جمع تاخیر بھی۔اس کے متعلق چند طرح گفتگو ہے:اولًا یہ کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ابوداؤد نے فرمایا کہ جمع تقدیم کے بارے میں کوئی حدیث صحیح نہ ملی۔(میرک ازمرقاۃ)دوسرے یہ کہ مسلم،بخاری میں حضرت ابن مسعود کی



Total Pages: 519

Go To