Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1337 -[5]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَافَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَفَرًا فَأَقَامَ تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَنَحْنُ نُصَلِّي فِيمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَكَّةَ تِسْعَةَ عَشَرَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فَإِذَا أَقَمْنَا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِك صلينَا أَرْبعا. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کیا تو انیس۱۹ دن ٹھہرے دو،دو رکعتیں پڑھتے رہے ۱؎ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ ہم اپنے اور مکے کے درمیان انیس دن تک دو دو رکعتیں پڑھتے رہے جب اس سے زیادہ ٹھہرتے ہیں تو چار پڑھتے ہیں۲؎(بخاری)

۱؎ یہ سفر مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ کی طرف فتح مکہ کے لیئے تھا۔(اشعۃ اللمعات)اورحضورصلی اللہ علیہ وسلم اس زمانہ میں پندرہ دن کی نیت سے مقیم نہ ہوئے تھے یہی ارادہ رہا کہ آج جائیں کل جائیں اور اتفاقًا انیس روز گزر گئے اس لیئے قصر ہی کرتے رہے۔چنانچہ عبدالرزاق نے اپنی مسند میں،امام محمد نے کتاب الاثار میں حضرت ابن عمر سے روایت کی کہ ہم ایک دفعہ آذر بائیجان میں برف میں گھر گئے تو چھ ماہ وہاں ٹھہرے مگر قصر ہی پڑھتے رہے،نیز حضرت انس عبدالملک ابن مروان کے ساتھ شام میں ایک جگہ دو مہینہ تک ٹھہرے قصر ہی پڑھتے رہے۔خلاصہ یہ ہے کہ اگر مسافر بلا ارادہ کسی جگہ مہینوں ٹھہرجائے تو قصر ہی پڑھے گا۔

۲؎ یہ حضرت ابن عباس کا اجتہاد ہے جو انہوں نے فتح مکہ کے واقعہ سے کیا۔ظاہریہ ہے کہ بعد میں اس پرعمل چھوڑدیا کیونکہ طحاوی میں انہی سے روایت آتی ہے کہ اگر تم سفرمیں پندرہ دن قیام کی نیت کرو تو نماز پوری کرو ورنہ قصر۔ابن حجر شافعی فرماتے ہیں یہ انیس دن کا قول صرف ابن عباس کاہے اس میں کوئی فقیہ ان کے ساتھ نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ واقعہ غزوہ طائف یا غزوہ حنین میں تھا اور ظاہر ہے کہ غازی ہر وقت فتح کا منتظر رہتا ہے کہ کب فتح ہو اور کب لوٹوں،لہذا اس واقعہ سے استدلال قوی نہیں۔(مرقاۃ)

1338 -[6] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ فَصَلَّى لَنَا الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَاءَ رَحْلَهُ وَجَلَسَ فَرَأَى نَاسًا قِيَامًا فَقَالَ: مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ؟ قُلْتُ: يُسَبِّحُونَ. قَالَ: لَوْ كُنْتُ مُسَبِّحًا أَتْمَمْتُ صَلَاتِي. صَحِبْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ لَا يَزِيدُ فِي السَّفَرِ عَلَى رَكْعَتَيْنِ وَأَبَا بكر وَعمر وَعُثْمَان كَذَلِك

روایت ہے حضرت حفص ابن عاصم سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں مکہ معظمہ کے راستے میں حضرت ابن عمر کے ساتھ تھا آپ نے ہمیں ظہر دو رکعتیں پڑھائیں پھر اپنی منزل میں آئے اور بیٹھے تو کچھ لوگوں کو کھڑا دیکھا فرمایا یہ لوگ کیا کررہے ہیں میں نے کہا نفل پڑھ رہے ہیں۲؎ فرمایا اگر میں نفل پڑھتا تو اپنی نماز ہی پوری کرلیتا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا تو آپ سفر میں دو رکعتوں پر زیادتی نہ کرتے تھے اور ابوبکر،عمر،عثمان کو ایسے ہی دیکھا ۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎ آپ حفص ابن عاصم ابن عمر ابن خطاب ہیں،قرشی،عدوی،جلیل القدر تابعی ہیں،سیدناعبداﷲ ابن عمر کے بھتیجے ہیں،بہت احادیث کے راوی ہیں۔

 



Total Pages: 519

Go To