Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1335 -[3]

وَعَن يعلى بن أُميَّة قَالَ: قلت لعمر بن الْخطاب: إِنَّمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى (أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا)فَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ. قَالَ عُمَرُ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ: «صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ فَاقْبَلُوا صدقته» رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت یعلیٰ ابن امیہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نےحضرت عمر ابن خطاب سےعرض کیا اﷲ تعالٰی نے فرمایا ہے کہ اگر تمہیں کفار کے فتنے کا خوف ہوتو نمازقصر پڑھو اب لوگ امن میں ہوگئے۲؎ حضرت عمر نے فرمایا کہ جس سےتمہیں تعجب ہے مجھے بھی ہوا تھا تو میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا حضور نے فرمایا کہ یہ رب کا صدقہ ہے جو تم پر کیا لہذا اس کا صدقہ قبول کرو ۳؎(مسلم)

۱؎ آپ صحابی ہیں،فتح مکہ کے دن ایمان لائے،غزوہ حنین و طائف میں شریک ہوئے،زمانہ فاروقی میں نجران کے گورنر رہے، حضرت علی مرتضٰی کے ساتھ جنگ صفین میں شہید ہوئے۔

۲؎ یعنی قرآن مجید سےمعلوم ہوتا ہے کہ صرف سفرقصر کا سبب نہیں بلکہ سفر میں کفار کا خوف قصر کا باعث ہے،اب خوف تو ہے نہیں تو چاہیئے کہ قصر بھی نہ ہو۔

۳؎ یعنی قرآن شریف میں خوف کفار کا ذکر اتفاقًا ہے کیونکہ اس زمانہ میں عمومًا سفروں میں خوف ہوتا تھا تم بہرحال ضرور قصر کرو خوف ہو یا نہ ہو۔یہ حدیث امام اعظم کی بہت قوی دلیل ہے کہ سفر میں قصر واجب ہے کیونکہ فَاقبِلُوا امر ہے امرو جوب کے لیئے ہوتا ہے۔

1336 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ من الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ قِيلَ لَهُ: أَقَمْتُمْ بِمَكَّة شَيْئا قَالَ: «أَقَمْنَا بهَا عشرا»

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ گئے تو آپ مدینہ منورہ لوٹنے تک دو رکعتیں پڑھتے رہے ۱؎ ان سے کہا گیا کیا تم مکہ میں کچھ دیر ٹھہرے بھی تھے فرمایا دس دن ٹھہرے تھے۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی جاتے آتے رستہ میں بھی اور مکہ مکرمہ میں بھی کیونکہ وہاں آپ نے مکہ معظمہ میں پندرہ دن قیام کی نیت نہ فرمائی تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسافر رستہ میں قصر ہی کرے گا اتمام نہیں کرسکتا،ورنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی تو سفر میں ایک آدھ بار اتمام کرکے دکھاتے۔سرکار ابدقرار صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم امت کے لیئے کبھی مکروہات پر بھی عمل کیا۔

۲؎ معلوم ہوا کہ دس دن کے قیام پر نماز پوری نہ کی جائے گی بلکہ پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت پر،جیسا کہ طحاوی شریف میں حضرت عبداﷲ ابن عباس سے روایت ہے کہ اگر تم کہیں پندرہ دن قیام کی نیت کرو تو پوری پڑھو،ورنہ قصر کرو،اس کی پوری بحث ہماری کتاب "جاءالحق"حصہ دوم میں دیکھو۔خیال رہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چوتھی ذی الحجہ کی صبح کو حج سے فارغ ہو کر وہاں سے واپس ہوئے۔یہ حدیث امام شافعی کے بالکل خلاف ہے کیونکہ ان کے ہاں چار دن کے قیام پر نماز پوری پڑھی جاتی ہے۔

1337 -[5]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَافَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَفَرًا فَأَقَامَ تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَنَحْنُ نُصَلِّي فِيمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَكَّةَ تِسْعَةَ عَشَرَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فَإِذَا أَقَمْنَا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِك صلينَا أَرْبعا. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کیا تو انیس۱۹ دن ٹھہرے دو،دو رکعتیں پڑھتے رہے ۱؎ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ ہم اپنے اور مکے کے درمیان انیس دن تک دو دو رکعتیں پڑھتے رہے جب اس سے زیادہ ٹھہرتے ہیں تو چار پڑھتے ہیں۲؎(بخاری)

 



Total Pages: 519

Go To