Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۱؎ خیال رہے کہ عبادات میں پہلے نماز کا حساب ہوگا اورحقوق العباد میں پہلے قتل و خون کا یا نیکیوں میں پہلے نماز کا حساب ہے اور گناہوں میں پہلے قتل کا،لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں جس میں فرمایا گیا کہ پہلےقتل اورخون کا حساب ہوگا یعنی اگر نماز کے حساب میں بندہ ٹھیک نکلا تو اگلےحساب ان شاءاﷲ آسان ہوں گے،اور اگر ان میں بندہ پھنس بھی جائے گا تو رب تعالٰی نمازوں کی برکتوں سے اس کے چھٹکارے کی سبیل پیدا فرمادے گا،مثلًا اگر اس کے ذمہ حقوق العباد ہیں تو حق والے کو جنت دے کر اسےمعاف کرادے گا اور اگرحقوق اﷲ ہیں تو انہیں رحم خسروانہ اور الطاف شاہانہ سےخودبخش دے گا۔یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ نماز کے پابند کو گناہوں سے بچنے اور دوسری نیکیاں کرنے کی دنیا ہی میں توفیق مل جاتی ہے لہذا وہاں جس کی نمازیں ٹھیک نکلیں اس کے دوسرے اعمال خود بخود ٹھیک نکلیں گے۔غرض کہ حدیث بالکل صاف ہے اس پر چکڑالویوں کو کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔

۲؎ یہاں کمی سے ادا میں کمی مراد نہیں بلکہ طریقۂ ادا میں کمی مراد ہے یعنی اگرکسی نے فرائض ناقص طریقہ سے ادا کیئے ہوں گے تو وہ کمی نوافل سے پوری کردی جائے گی۔یہ مطلب نہیں کہ وہ بندہ فرض نماز نہ پڑھے نفل پڑھتا رہے اور وہاں نفل فرض بن جائیں۔ (ازلمعات)لہذا حدیث پر چکڑالویوں کا اعتراض نہیں پڑ سکتا۔

۳؎  کہ فرائض کی کمی سنتوں اور نوافل سے پوری کی جائے گی،کمی کےمعنی ابھی عرض کیئے جاچکے کیوں نہ ہو کہ وہ سنتوں والے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم ہماری کمی پوری کرنے ہی تشریف لائے ہیں۔گرتوں کو اٹھانا اور بگڑتوں کا بنانا انہیں کا کام ہے۔

1331 -[4] وَرَوَاهُ أَحْمد عَن رجل

اور احمدنے ایک مرد سے۔

 

1332 -[5]  

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَذِنَ اللَّهُ لَعَبْدٍ فِي شَيْءٍ أَفْضَلَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ يُصَلِّيهِمَا وَإِنَّ الْبِرَّ لَيُذَرُّ عَلَى رَأْسِ الْعَبْدِ مَا دَامَ فِي صَلَاتِهِ وَمَا تَقَرَّبَ الْعِبَادُ إِلَى اللَّهِ بِمِثْلِ مَا خَرَجَ مِنْهُ» يَعْنِي الْقُرْآنَ. رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ تعالٰی نے بندے کو دو رکعتوں سے جنہیں وہ ادا کرے زیادہ تاکیدی حکم کسی اور چیز کا نہ دیا ۱؎ اور جب تک بندہ نماز میں رہتاہےبھلائی اس کےسر پرنثارہوتی رہتی ہے۲؎ اور بندہ رب کی طرف کسی چیز سے اتنا قرب حاصل نہیں کرتا جتنا اپنے منہ سے ادا کیئے ہوئےیعنی قرآن۳؎(احمدوترمذی)

۱؎ یعنی سارے احکام الہیہ میں نماز سب سے افضل ہے کیوں نہ ہو کہ یہ تلاوت قرآن،تسبیحوں،تکبیروں وغیرہ کا مجموعہ ہے۔

۲؎ خیال رہے کہ نماز کی تیاری،نماز کا انتظار،نماز کے بعددعا اور وظیفے سب نماز ہی میں داخل ہیں،جیساکہ گزشتہ روایات میں گزر چکا،لہذا ان تمام اوقات میں نمازی پر رحمتیں نچھاورہوتی رہیں گی۔اس نچھاور میں لطیف اشارہ اس جانب ہورہا ہے کہ نمازی کے پاس بیٹھنے والے اورنمازی کے خدمت گاربھی محروم نہیں ہوتے،دولہا کی بکھیر براتی لوٹتے ہیں۔شعر

چراغے زندہ مے خواہی درشب زندہ داران زن             کہ بیداری بخت از بخت بیداراں شود پیدا

۳؎  یعنی بندے کے منہ سے جس طرح بھی قرآن ادا ہوجائے وہ قرب الٰہی  کا بہترین ذریعہ ہے۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ بغیر سمجھے ہوئے قرآن پڑھنا بھی ثواب ہے۔دوسرے یہ کہ اگربلا ارادہ تلاوت الفاظ قرآن پاک منہ سےنکل جائیں تب بھی ثواب ملے گا اسی لیئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے مَاخَرَجَ فرمایا یعنی جیسے بھی ادا ہوجائیں۔


 



Total Pages: 519

Go To