Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۴؎ یعنی اپنی علم وقدرت کے صدقے مجھے اس کام کے انجام سے بھی خبردار کرے اور اگر خیر ہو تو مجھے اس پر قادربھی کردے۔معلوم ہوا کہ اﷲ کے صفات سے امداد طلب کرنا جائز ہے۔

۵؎  مگر تیرے بتانے سے جانتا ہوں۔(مرقاۃ)یعنی اگر تو مجھے اس کام کا انجام بتادے تو میں بھی جان لوں۔

۶؎ خیال رہے کہ یہاں اﷲ کے علم میں شک نہیں کہ یہ تو کفر ہے،بلکہ شک و تردد اس میں ہے کہ اس کام کی بہتری ا للہ کے علم میں ہے یا بدتری لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں اور الفاظ میں شک راوی کی طرف سے ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا میں یہ الفاظ فرمائے یا وہ۔اب بہتر یہ ہے کہ پڑھنے والا دونوں الفاظ پڑھ لیا کرے۔

۷؎  یعنی مجھے اس کام پر قدرت بھی دے،اسے آسان بھی کردے اور انجام کار برکت بھی نصیب کر،یہ معنی نہیں کہ میری تقدیر میں لکھ دے کہ تقدیر کی تحریر تو پہلے ہو چکی ہے۔

۸؎  یعنی مجھے اس کام پر قدرت بھی نہ دے اور میرے دل میں اس سے نفرت بھی پیدا فرمادے کہ چھوٹ جانے پر مجھے رنج و غم بھی نہ ہو،پھیرنے کے یہ معنی بہت مناسب ہیں،اس جملے کے اور معانی بھی ہوسکتے ہیں۔

۹؎  یعنی اس شر کام سے بچا کر اس کے عوض کوئی اور خیر کام عطا فرمادے اور اس نکاح یا تجارت سے بچا کر دوسری جگہ نکاح یا دوسرا کاروبار عطا فرما۔

۱۰؎  یعنی ھذا الامر کی جگہ اپنے کام کا نام لے ھذا النکاح یا ھذہ التجارۃ یا ھذہ التعمیرکہے۔حدیث شریف میں ہے جو استخارہ کرلیا کرے وہ نقصان میں نہ رہے گا اور جو استخارہ کرلیا کرے وہ نادم نہ ہوگا۔اس استخارہ کے بعد پھر جدھر دل متوجہ ہو وہ کرے ان شاء اﷲ کامیابی ہوگی۔بعض صوفیاء فرماتے ہیں کہ اگر سوتے وقت دو رکعتیں پڑھ کر یہ دعا پڑھے،پھر باوضو قبلہ رو ہوجائے تو اگر خواب میں سبزی یا سفیدی جاری پانی یا روشنی دیکھے تو کامیابی کی علامت ہے اور اگر سیاہی یا گدلا پانی یا اندھیرا دیکھے تو ناکامی اور نامرادی کی علامت ہے سات روز یہ عمل کرے ان شاءاﷲ اس دوران میں خواب میں اشارہ ہوجائے گا۔استخارہ کے اور بہت طریقے اس جگہ مرقاۃ نے بیان کیئے فرمایا کہ جسے بہت جلدی ہے تو وہ صرف یہ کہہ لے "اَللّٰھُمَّ خِرْلِیْ وَاخْتَرْلِیْ وَاجْعَلْ لِّیَ الْخَیْر"ان شاءاﷲ اس کام میں خیرو برکت ہوگی۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1324 -[3]

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ. قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ رَجُلٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا ثُمَّ يَقُومُ فَيَتَطَهَّرُ ثُمَّ يُصَلِّي ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ إِلَّا غَفَرَ الله لَهُ ثمَّ قَرَأَ هَذِه الاية: (وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذكرُوا الله فاستغفروا لذنوبهم)

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّ ابْنَ مَاجَه لم يذكر الْآيَة

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت ابوبکر نے خبر دی اور ابوبکر سچے ہیں  ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ایسا کوئی شخص نہیں جو گناہ کرے پھر اٹھے وضو کرلے پھر نماز پڑھے پھر اﷲسے معافی چاہے مگر اﷲ اسے بخش دیتا ہے ۲؎ پھر یہ آیت پڑھی اور وہ لوگ کہ جب برائی کرلیں یا اپنی جانوں پر ظلم کرڈالیں تو اﷲ کو یاد کریں اور اپنے گناہوں کی معافی چاہیں ۳؎(ترمذی،ابن ماجہ)ابن ماجہ نے آیت کا ذکر نہیں کیا۔

 



Total Pages: 519

Go To