Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1316 -[8]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى الضُّحَى ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بَنَى اللَّهُ لَهُ قَصْرًا مَنْ ذَهَبٍ فِي الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو چاشت کی بارہ رکعتیں پڑھ لے تو اﷲ اس کےلیئے جنت میں سونے کا محل بنائے گا ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ) ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے جسے ہم صرف اس اسناد سے پہنچانتے ہیں ۲؎

۱؎ یعنی جو بارہ رکعت چاشت پڑھنے کا عادی ہو تو اﷲ تعالٰی اس کے نام جنت میں ایک سونے کا بےنظیر محل کردے گا کیونکہ وہاں مکانات تو پہلے بنے ہوئے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ جنت کے میدانی علاقہ میں اس کےلیے سونے کا محل بنادے گا کیونکہ جنت میں کچھ علاقہ خالی بھی ہے جس میں باغ و مکانات انسان کے اعمال کے بعد بنائے جاتے ہیں۔

۲؎  اسی لیئے علماء فرماتے ہیں کہ چاشت کی نماز آٹھ رکعت تک ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل شریف ہے،نیز آٹھ کی حدیث بروایت صحیح منقول ہے،بارہ کی روایت غریب۔

1317 -[9]

وَعَن معَاذ بن أنس الْجُهَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَعَدَ فِي مُصَلَّاهُ حِينَ يَنْصَرِفُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى يُسَبِّحَ رَكْعَتَيِ الضُّحَى لَا يَقُولُ إِلَّا خَيْرًا غُفِرَ لَهُ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ زَبَدِ الْبَحْرِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت معاذ ابن انس جہنی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو شخص جب نماز فجر سے فارغ ہو تو اپنے مصلےٰ میں بیٹھا رہے  حتی کہ اشراق کے نفل پڑھ لے صرف خیر ہی بولے  ۱؎ تو اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اگرچہ سمندر کے جھاگ سے زیادہ ہوں۲؎(ابوداؤد)

۱؎ یعنی جہاں فجر کے فرض پڑھے مسجد میں یا گھر  تو بعد فرض مصلےٰ پر ہی بیٹھا رہے خواہ خاموش بیٹھے یا تلاوت و ذکر کرے۔

۲؎ یعنی اس کے گناہ صغیرہ کتنے بھی ہوں اس نماز اشراق پڑھنے اور مصلےٰ پر رہنے کی برکت سے معاف ہوجائیں گے۔شیخ شہاب الدین سہروردی فرماتے ہیں کہ اس نماز سے دل میں نور پیدا ہوتا ہے۔جو دل کا نور چاہے وہ اشراق کی پابندی کرے۔(اشعہ)بعض روایات میں ہے کہ اسے حج کامل و مقبول کا ثواب ملتا ہے۔(مرقاۃ)یہ احادیث اگرچہ ضعیف ہیں مگر فضائل اعمال میں ضعیف حدیث مقبول ہے،نیز ضعیف حدیث جب بہت اسنادوں سے روایت ہوجائے تو حسن بن جاتی ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

1318 -[10]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَافَظَ عَلَى شُفْعَةِ الضُّحَى غُفِرَتْ لَهُ ذنُوبه وَإِن كَانَت مثلا زَبَدِ الْبَحْرِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو اشراق کی دو رکعتوں پر پابندی کرے تو اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اگرچہ سمندر جھاگ جتنے ہوں ۱؎(احمد، ترمذی،ابن ماجہ)

۱؎  یہاں بھی ضحٰی سے مراد اشراق کے نفل ہیں،حفاظت سے مراد  انہیں ہمیشہ پڑھنا ہے۔بحالت سفر اگر اتنی دیر مصلےٰ پر نہ بیٹھ سکے تو سفر جاری کردے اور سورج چڑھ جانے پر یہ نفل پڑھ لے اﷲ تعالٰی اس پابندی کی برکت سے گناہ بخش دے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ نفل پر



Total Pages: 519

Go To