$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1311 -[3]

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلَامَى مِنْ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ فَكُلُّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ وَيُجْزِئُ مِنْ ذَلِكَ رَكْعَتَانِ يَرْكَعُهُمَا من الضُّحَى» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم میں سے ہر ایک کے ہر جوڑ پر صدقہ ہوتا ہے پس ہر تسبیحہ صدقہ ہے اور ہر حمد صدقہ ہے اور ہرتکبیر صدقہ ہے  ۱؎ اچھی بات کا حکم دینا صدقہ ہے اور برائی سے روکنا صدقہ ہے اوران سب کی طرف سے چاشت کی دو رکعتیں کافی ہیں جسے انسان پڑھ لے ۲؎(مسلم)

۱؎ یعنی ان سب میں صدقہ نفلی کا ثواب ہے اور یہ بدن کے جوڑوں کی سلامتی کا شکریہ بھی ہے لہذا اگر کوئی انسان روزانہ تین سو ساٹھ نفلی نیکیاں کرے تو محض جوڑوں کا شکریہ ادا کرے گا باقی نعمتیں بہت دور ہیں۔

۲؎  یہاں چاشت سے مراد اشراق ہی ہے،اس نماز کے بڑے فضائل ہیں۔بہتر یہ ہے کہ نماز فجر پڑھ کر مصلےٰ پر ہی بیٹھا رہے،تلاوت یا ذکر خیر ہی کرتا رہے،یہ رکعتیں پڑھ کر مسجد سے نکلے ان شاءاﷲ عمرہ کا ثواب پائے گا۔

1312 -[4]

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّهُ رَأَى قَوْمًا يُصَلُّونَ مِنَ الضُّحَى فَقَالَ: لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ الصَّلَاةَ فِي غَيْرِ هَذِهِ السَّاعَةِ أَفْضَلُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے حضرت زید ابن ارقم سے کہ انہوں نے ایک قوم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ۱؎ توفرمایا کہ یہ حضرات جانتے ہیں کہ اس کے علاوہ دوسری گھڑی(ساعت)میں یہ نماز افضل ہے رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مقربین کی نماز جب ہے جب کہ اونٹنی کا بچہ گرم ہوجاتا ہے ۲؎(مسلم)

۱؎  اشراق سے متصل چہارم دن گزرنے سے پہلے جیسا کہ اگلی عبارت سے معلوم ہورہا ہے۔

۲؎ بعض علماء نے فرمایا کہ چاشت کا وقت بھی طلوع آفتاب سے شروع ہوتا ہے اور نصف النہار پرختم ہوتا ہے مگر بہتر یہ ہے کہ چہارم دن گزرنے پر پڑھے،ان کا ماخذ یہ حدیث ہے کیونکہ زید ابن ارقم نے افضل فرمایا،یہ نہ کہا کہ یہ نماز وقت سے پہلے پڑھ رہے ہیں،چونکہ اس زمانہ میں گھڑی نہ تھی اس لیے اوقات کا ذکر علامت سے ہوتا تھا آپ نے دوپہر کو اسی علامت سے بیان فرمایا کہ اونٹ کے بچے اون کی وجہ سے جب گرم ہوجائیں یعنی خوب دن چڑھ جائے وقت گرم ہوجائے،چونکہ اس وقت دل آرام کرنا چاہتا ہے اس لیے اسو قت نماز بہتر ہے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1313 -[5]

وَعَن أَبِي الدَّرْدَاءِ وَأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَنِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنَّهُ قَالَ: يَا ابْن آدم اركع لي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ: أَكْفِكَ آخِرَهُ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابودرداء اور ابوذر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رب تعالٰی سے روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ رب فرماتا ہے کہ اے انسان تو شروع دن میں میرےلیئے چار رکعتیں پڑھ لے  ۱؎ میں آخر دن تک تیرےلیئے کافی ہوں گا۲؎ (ترمذی،ابوداؤد)

۱؎  فجر کی یا چاشت کی،دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں اسی لیے مؤلف اس کو نوافل کے باب میں لائے یعنی میری رضاکےلیے یہ نماز پڑھ لے۔

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html