Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

باب صلوۃ الضحی

چاشت کی نماز کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  ضُحےٰ ضَحْوٌ سے بنا،بمعنی دن کی بلندی یا آفتاب کی شعاع،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَالشَّمْسِ وَضُحٰىہَا"۔عرف میں نماز اشراق اور نماز چاشت دونوں کو نماز اشراق کہا جاتاہے۔نماز اشراق کا وقت سورج کے چمکنے کے بیس۲۰ منٹ بعد سے سورج کے چہارم  کے چہارم آسمان پر پہنچنے تک اورنماز چاشت کا وقت چہارم دن سے دوپہریعنی نصف النہار تک ہے،کبھی نماز اشراق کو بھی نماز چاشت کہہ دیا جاتا ہے۔حق یہ ہے کہ یہ دونوں نمازیں سنت مستحبہ ہیں،نماز اشراق مسجد میں ادا کرنا بہتر ہے اور چاشت گھر میں،اشراق کی دو رکعتیں ہیں اور چاشت کی چار۔

1309 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَن أم هَانِئ قَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ بَيْتَهَا يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَاغْتَسَلَ وَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ فَلَمْ أَرَ صَلَاةً قَطُّ أَخَفَّ مِنْهَا غَيْرَ أَنَّهُ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ. وَقَالَتْ فِي رِوَايَة أُخْرَى: وَذَلِكَ ضحى

روایت ہے حضرت ام ہانی سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن ان کے گھر میں تشریف لائے آپ نے غسل کیا اور آٹھ رکعتیں پڑھیں ۱؎ میں نے اس سے زیادہ ہلکی نماز کوئی نہ دیکھی بجز اس کے کہ آپ رکوع اور سجدہ پورا کرتے تھے ۲؎ اور دوسری روایت میں فرمایا یہ چاشت کا وقت تھا۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یہ حدیث نماز چاشت کی بڑی قوی دلیل ہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ نماز گھر میں پڑھنا بہتر ہے۔خیال رہے کہ ام ہانی کا نا م فاختہ یا عاتکہ بنت ابی طالب ہے،علی مرتضٰی کی حقیقی بہن ہیں،آپ مجبورًا مکہ معظمہ سے ہجرت نہ کرسکی تھیں۔

۲؎ یعنی یہ نماز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری نمازوں سے ہلکی،رکوع سجدے تو ویسے ہی دراز تھے مگر قیام اور قعدہ ہلکا تھا لہذا اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ آپ نے قیام و قعدہ پورا نہ کیا۔

۳؎یعنی یہ نماز شکرانہ وغیرہ کی نہ تھی بلکہ چاشت کی تھی۔

1310 -[2]

وَعَن معَاذَة قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: كَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى؟ قَالَتْ: أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت معاذہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز چاشت کتنی پڑھتے تھے فرمایا چار رکعتیں اور جو اﷲ چاہتا وہ پڑھتے تھے ۱؎(مسلم)

۱؎ یعنی آپ نے نماز چار رکعت سے کبھی کم نہ پڑھی،ہاں کبھی زیادہ کردیتے۔امام غزالی نے احیاء العلوم میں فرمایا کہ ان رکعتوں میں والشمس،واللیل،والضحٰی،الم نشرح پڑھے۔

1311 -[3]

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلَامَى مِنْ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ فَكُلُّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ وَيُجْزِئُ مِنْ ذَلِكَ رَكْعَتَانِ يَرْكَعُهُمَا من الضُّحَى» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم میں سے ہر ایک کے ہر جوڑ پر صدقہ ہوتا ہے پس ہر تسبیحہ صدقہ ہے اور ہر حمد صدقہ ہے اور ہرتکبیر صدقہ ہے  ۱؎ اچھی بات کا حکم دینا صدقہ ہے اور برائی سے روکنا صدقہ ہے اوران سب کی طرف سے چاشت کی دو رکعتیں کافی ہیں جسے انسان پڑھ لے ۲؎(مسلم)

 



Total Pages: 519

Go To