Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

فرشتے اتنے نازل ہوتے ہیں کہ زمین تنگ ہوجاتی ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَ الرُّوۡحُ فِیۡہَا"۔شب برات کے فضائل و اعمال ہماری کتاب"مواعظہ نعیمیہ"اور"اسلامی زندگی"میں دیکھو۔

۵؎ یعنی مومن گنہگار نہ کہ کفار ان کی بخشش ناممکن اگر کفر پر مرجائیں۔

۶؎ کوئی حر ج نہیں کیونکہ فضائل اعمال میں حدیث ضعیف قبول ہے۔

1300 -[6]

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةُ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهِ فِي مَسْجِدِي هَذَا إِلَّا الْمَكْتُوبَة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت زید ابن ثابت سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مرد کی نماز اپنے گھر میں میری اس مسجد میں نماز سے افضل ہے سوائے فرائض کے  ۱؎ (ابوداؤد، ترمذی)

۱؎  اس کی بحث ابھی گزرچکی کہ اس حکم سے نماز عیدین،تحیۃ المسجد وغیرہ بہت سے نوافل مستثنٰی ہیں۔شیخ نے لمعات میں فرمایا کہ یہ حکم گھر میں نماز پڑھنے کی ترغیب کے لیئے مبالغۃً ہے تاکہ لوگ مسجدنبوی میں نوافل کے لیئے ہجوم نہ کیا کریں،نیز گھر کی نماز میں ریاء کا احتمال کم ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

1301 -[7]

عَن عبد الرَّحْمَن بن عبد الْقَارِي قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ لَيْلَةً فِي رَمَضَان إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهِ وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلَاتِهِ الرَّهْطُ فَقَالَ عمر: إِنِّي أرى لَوْ جَمَعْتُ هَؤُلَاءِ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ لَكَانَ أَمْثَلَ ثُمَّ عَزَمَ فَجَمَعَهُمْ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْب ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ لَيْلَةً أُخْرَى وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاة قارئهم. قَالَ عمر رَضِي الله عَنهُ: نعم الْبِدْعَةُ هَذِهِ وَالَّتِي تَنَامُونَ عَنْهَا أَفْضَلُ مِنَ الَّتِي تَقُومُونَ. يُرِيدُ آخِرَ اللَّيْلِ وَكَانَ النَّاسُ يقومُونَ أَوله. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہےحضرت عبدالرحمان ابن عبدالقاری سے  ۱؎فرماتے ہیں کہ میں ایک رات حضرت عمر ابن خطاب کے ساتھ مسجد کو گیا لوگ متفرق طور پر الگ الگ تھے کوئی اکیلے نماز پڑھ رہاتھا اور کسی کے ساتھ کچھ جماعت پڑھ رہی تھی۲؎ حضرت عمر نے فرمایا اگر میں ان لوگوں کو ایک قاری پر جمع کردیتا تو بہتر تھا پھر آپ نے ارادہ کر ہی لیا تو انہیں ابی ابن کعب پر جمع کردیا ۳؎ فرماتے ہیں کہ پھر میں دوسری رات آپ کے ساتھ گیا تو لوگ اپنے قاری کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے حضرت عمر نے فرمایا یہ بڑی اچھی بدعت ہے۴؎  اور وہ نماز جس سے تم سورہتے ہو اس سے افضل ہے جس کو تم قائم کرتے ہو یعنی آخر رات کی ۵؎ اور لوگ اول رات میں پڑھتے تھے۶؎(بخاری)

۱؎ قاری عبدالرحمن کی صفت ہے نہ کہ عبد کا مضاف الیہ اور یہ قبیلہ قارہ کی طرف منسوب ہے،آپ تابعی ہیں،حضرت عمر فاروق کی طرف سے بیت المال پر عامل تھے۔

۲؎ یعنی رمضان کی راتوں میں سے ایک ر ات میں مسجد نبوی میں داخل ہوا تو لوگوں کو اس طرح متفرق طور پر تراویح پڑھتے دیکھا کہ کوئی جماعت سے پڑھ رہا ہے کوئی اکیلے۔خیال رہے کہ فرائض کی جماعت اولیٰ کے وقت مسجد میں علیحدہ نماز پڑھنا منع ہے۔تراویح کا یہ حکم نہیں اب بھی پیچھے آنے والے تراویح کی جماعت کے وقت فرائض اور بقیہ تراویح پڑھتے رہتے ہیں۔

 



Total Pages: 519

Go To