$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۱؎ مصنف یہ حدیث تراویح کے باب میں اس لیئے لائے کہ اس حکم میں تراویح بھی داخل ہے لہذا تراویح گھر میں پڑھنا افضل۔مرقاۃ نے فرمایا کہ تراویح اس حکم سے خارج ہے۔صحابہ کا اس پر اجماع ہوگیا کہ تراویح مسجد میں اور جماعت سے پڑھنا افضل ہے۔زمانۂ نبوی میں گھر میں پڑھنا افضل تھا جس کی وجہ پہلے گزر چکی۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1298 -[4]

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ فَلَمَّا كَانَتِ السَّادِسَةُ لَمْ يَقُمْ بِنَا فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ قَامَ بِنَا حَتَّى ذهب شطر اللَّيْل فَقلت: يارسول الله لَو نفلتنا قيام هَذِه اللَّيْلَة. قَالَ فَقَالَ: «إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى ينْصَرف حسب لَهُ قيام اللَّيْلَة» . قَالَ: فَلَمَّا كَانَت الرَّابِعَة لم يقم فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ جَمَعَ أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ وَالنَّاسَ فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ. قَالَ قُلْتُ: وَمَا الْفَلَاحُ؟ قَالَ: السَّحُورُ. ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا بَقِيَّةَ الشَّهْرِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّ التِّرْمِذِيَّ لَمْ يَذْكُرْ: ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا بَقِيَّة الشَّهْر

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں ہم نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روزے رکھے آپ نے مہینے میں ہمارے ساتھ بالکل قیام نہ فرمایا  ۱؎حتی کہ سات دن باقی رہ گئے تب ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ تہائی رات گزر گئی پھر جب چھٹی رات ہوئی تو ہمارے ساتھ قیام نہ کیا پھر جب پانچویں رات ہوئی تو ہم کو نماز پڑھائی حتی کہ رات آدھی گزر گئی۲؎ میں نے عرض کیا یا رسول اﷲ کاش کہ آپ ان راتوں کا قیام ہمارے لیئے زائد فرمادیتے ۳؎ حضور نے فرمایا کہ انسان جب امام کے ساتھ نماز پڑھے حتی کہ فارغ ہوجائے تو اس کے لیئے ساری رات قیام شمار کیا جاتا ہے ۴؎ پھر جب چوتھی رات ہوئی تو ہمیں نماز نہ پڑھائی حتی کہ رات تہائی باقی رہ گئی ۵؎ پھر جب تیسری رات ہوئی تو اپنے گھر والوں اپنے بیویوں اور لوگوں کو جمع فرمایا ہمیں نماز پڑھائی حتی کہ ہم نے خوف کیا کہ ہماری فلاں جاتی رہے گی میں نے کہا فلاں کیا چیز ہے فرمایا سحری ۶؎ پھر بقیہ مہینہ نماز نہ پڑھائی(ابوداؤد،ترمذی)نسائی اور ابن ماجہ نے اس کی مثل روایت کی مگر ترمذی نے"لَمْ یَقُمْ"الخ کا ذکر نہ کیا۔

۱؎ یعنی خود تو تراویح پڑھتے رہے ہمیں جماعت سے نہ پڑھائیں جیسا کہ عبارت سے ظاہر ہے۔

۲؎ یعنی آپ نے تئیسو یں رمضان کو ہمیں تہائی رات تک تراویح پڑھائیں اور پچیسویں کو آدھی رات تک۔

۳؎ یعنی رمضان میں ہم پر تراویح فرض فرمادیتے۔معلوم ہوا کہ صحابہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو مالک احکام جانتے تھے۔

۴؎ یعنی عشاء جماعت سے پڑھ لینے سے تمام رات نوافل پڑھنے کا ثواب ہے لہذا تم تراویح نہ پڑھنے پرغم نہ کرو۔اس کی بحث پوری گزرچکی کہ اب تراویح سنت مؤکدہ ہے۔

۵؎ یعنی چھبیسویں رمضان ہم نے دو تہائی رات تک آپ کی تشریف آوری کا انتظار کیا لیکن آپ تشریف نہ لائے اور ہم کو تراویح نہ پڑھائیں۔اس کے سوا اس جملے کا اور مطلب نہیں بن سکتا۔

۶؎ یعنی ستائیسویں رات چونکہ غالبًا شب قدر ہے،اسی لئے آپ نے خود بھی اس رات تمام رات عبادت کی اور اپنے گھر والوں وصحابہ کرام کو بھی جگایا اور اتنی دراز تراویح پڑھی کہ صبح کے قریب ہی ختم کیں۔خیال رہے کہ جمع کے معنی یہ ہیں کہ مسجد میں ان سب کو جمع کیا اس



Total Pages: 519

Go To
$footer_html