Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۵؎  اس فرمان سے چند اہم باتیں معلوم ہوئیں:ایک یہ کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ اگر آج جماعت سے تراویح پڑھادی گئی تو تراویح بھی پنجوقتی نمازوں کی طرح فرض ہوجائیں گی۔دوسرے یہ کہ آپ کو یہ بھی خبر تھی کہ اگر تراویح فرض کردی گئی تو میری امت پر بھاری پڑے گی وہ ا س پر پابندی نہ کرسکیں گے۔یہ دونوں چیزیں علوم غیبیہ میں سے ہیں۔تیسرے یہ کہ جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اوروں پر شرعی احکام مرتب ہوجاتے ہیں کہ ہاں فرمادیں تو شے فرض ہوجائے نہ فرمادیں تو فرض نہ ہو جیسا کہ "کتاب الحج" میں آئے گا کہ اگر ہم ہاں کہہ دیتے تو حج ہر سال فرض ہوجاتا،ایسے ہی کبھی آپ کے عمل پر بھی شرعی احکام مرتب ہوجاتے ہیں کہ اگر آج تراویح پڑھا دیتے تو فرض ہوجاتیں نہ پڑھائیں فرض نہ ہوئیں۔یہ ہے میری سرکار کی سلطنت خداداد۔اس کی پوری بحث ہماری کتاب"سلطنت مصطفی"میں دیکھو۔چوتھے یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت پر رحیم و کریم ہیں اس رحمت کی وجہ سے آج تراویح نہ پڑھائیں۔پانچویں یہ کہ تراویح سنت مؤکدہ ہے کیونکہ صحابہ نے ہمیشہ پڑھیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ نہ پڑھنے کا عذر بیان فرمادیا،اس عذر سے ہمیشہ نہ پڑھنا تراویح کو غیر مؤکدہ نہ بنادے گا،ہاں تراویح کی جماعت سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے۔

۶؎ یہاں عام نوافل کا ذکر ہے ورنہ نماز اشراق،نمازسفر،نمازکسوف،نماز استسقاء وغیرہ نوافل مسجد میں افضل ہیں اور اب تراویح بھی مسجد میں افضل کیونکہ اس کی جماعت سے اب کوئی مانع نہیں۔

1296 -[2]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: (كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْغَبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ فِيهِ بِعَزِيمَةٍ فَيَقُولُ: «مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ والمر عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ كَانَ الْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عمر على ذَلِك» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم قیام رمضان کی ترغیب دیتے انہیں اس کا تاکیدی حکم نہ فرماتے ۱؎ فرماتے تھے کہ جو رمضان میں ایمان کے ساتھ طلب اجر کے لیئے قیام کرے تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۲؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اور معاملہ یوں ہی رہا،پھر خلافت صدیقی اور شروع خلافت فاروقی میں یہ معاملہ اسی طرح رہا ۳؎(مسلم)

۱؎  یعنی تراویح کو فرض یا واجب نہ قرار دیا لہذا اس سے یہ لازم نہیں کہ یہ سنت مؤکدہ بھی نہ ہوں۔

۲؎ یعنی تراویح کی پابندی کی برکت سے سارے صغیرہ گناہ معاف ہوجائیں گے کیونکہ گناہ کبیرہ توبہ سے اور حقوق العباد حق والے کے معاف کرنے سے معاف ہوتے ہیں،اس کا ذکر بارہا گزر چکا ۔

۳؎ کہ لوگ باقاعدہ پابندی سے تراویح کی جماعت نہ کرتے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عذر تو معلوم ہوچکا۔صدیق اکبر نے مختصر سے زمانۂ خلافت میں جہادوں سے فراغت نہ پائی،عہدِ فاروقی میں اس کا باقاعدہ انتظام ہو گیاجیسا کہ آیندہ آرہا ہے۔

1297 -[3]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا قَضَى أَحَدُكُمُ الصَّلَاةَ فِي مَسْجده فليجعل لبيته نَصِيبا من صلَاته فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صِلَاتِهِ خيرا» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی مسجد میں نماز پڑھ لے تو اپنی نماز کاکچھ حصہ اپنے گھر کے لیئے بھی رکھے کہ اﷲ اس کی نماز کی برکت سے ا س کے گھر میں خیر و برکت رکھے گا ۱؎ (مسلم)

 



Total Pages: 519

Go To