$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

صدمہ ہوا جس پر آپ نے ایک ماہ تک قنوت نازلہ پڑھی۔(مرقاۃ)اسی مواقعہ پر ایک واقعہ یہ بھی ہوا کہ قبیلہ عضل اور قعرہ نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ہم مسلمان ہوچکے ہیں،ہماری تعلیم کے لیئے کچھ علماء دیجئے تو آپ نے چھ صحابہ کو ان کے ساتھ بھیج دیا جن کا امیر حضرت عاصم ابن ثابت کو بنایا،ان کفار نے مقام رجیع میں پہنچ کر حضرت عاصم کو قتل کردیا اور حضرت خبیب و زید ابن سدانہ کو قید کرکے مکہ معظمہ فروخت کردیا۔پہلے واقعہ کا نام بیئر معونہ ہے اور اس کا نام واقعہ رجیع۔یہ دونوں واقعات ایک ہی مہینہ میں ہوئے یعنی ماہ صفر ہجرت سے ۳۶ ماہ بعد،ان دونوں واقعات کی بنا پر قنوت نازلہ پڑھی گئی اسی وجہ سے بعض احادیث میں بیر معونہ کا واقعہ بیان کیا گیا ہے اور بعض میں رجیع کا مگر ان دونوں میں تعارض نہیں۔بعض شارحین کو دھوکا لگا اور احادیث میں تعارض مان بیٹھے۔(مرقاۃ)

الفصل الثانی

دوسری فصل

1290 -[3]

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا فِي الظّهْر وَالْعصر وَالْمغْرب وَالْعشَاء وَصَلَاة الصُّبْح إِذا قَالَ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَة يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مَنْ بَنِي سُلَيْمٍ: عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ وَيُؤَمِّنُ مَنْ خَلْفَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ مسلسل ظہر،عصر،مغرب،عشاء اور نماز فجر میں قنوت پڑھی ۱؎ جب آخری رکعت میں سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَہ کہتے تو بنی سلیم کے کچھ قبیلوں رعل و ذکوان اور عصیہ پر بددعا کرتے اور پیچھے والے آمین کہتے ۲؎(ابوداؤد)

۱؎ یعنی پانچوں نمازوں میں آخری رکعت کے رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی۔غالب یہ ہے کہ جہری نمازوں میں قنوت نازلہ بھی آواز سے پڑھی اور آہستہ نمازوں میں قنوت نازلہ بھی آہستہ مگر یہ سب کچھ منسوخ ہوچکا۔

۲؎ معلوم ہوا کہ قنوت نازلہ صرف امام پڑھتا تھا،مقتدی صرف آمین ہی کہتے تھے،اب بھی اگر پڑھنا پڑ جائے تو یہی ہوگا۔

1291 -[4]

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا ثُمَّ تَرَكَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ قنوت پڑھی پھر چھوڑ دی ۱؎(ابوداؤد)

۱؎ یعنی ساری نمازوں میں تر ک کردی۔شوافع کے ہاں اس کا مطلب یہ ہے کہ فجر کے سوا باقی چار نمازوں میں چھوڑ دی۔بہرحال چار نمازوں میں قنوت نازلہ بالاتفاق منسوخ ہے اور فجر میں اختلاف ہے،ہمارے ہاں منسوخ ہے،شوافع کے ہاں نہیں اس لیئے اگر کوئی ان چارنمازوں میں قنوت نازلہ پڑھ لے تو بالاتفاق فاسد ہوگی۔

1292 -[5]

وَعَن أبي مَالك الْأَشْجَعِيّ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي: يَا أَبَتِ إِنَّكَ قَدْ صليت خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بكر وَعمر وَعُثْمَان وَعلي هَهُنَا بِالْكُوفَةِ نَحْوًا مِنْ خَمْسِ سِنِينَ أَكَانُوا يَقْنُتُونَ؟ قَالَ: أَيْ بُنَيَّ مُحْدَثٌ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت ابو مالک اشجعی ۱؎ سے فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے کہا ابا جان آپ نے تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر،عمر،عثمان،اور علی کے پیچھے اور یہاں کوفے میں حضرت علی کے پیچھے قریبًا پانچ سال ۲؎ نمازیں پڑھیں ہیں کیا یہ لوگ قنوت پڑھتے تھے فرمایا بیٹے یہ بدعت ہے۳؎(ترمذی،نسائی،ابن ماجہ)

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html