Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۲؎ یعنی تیری ذات سے تیری صفات کی پناہ یا تیرے غضب سے تیرے رحم کی پناہ،صوفیاء فرماتے ہیں کہ ان تین پناہوں میں سے پہلی پناہ میں توحید صفات اور دوسری میں توحید افعال تیسری میں توحید ذات کی طرف اشارہ ہے۔

۳؎  کیونکہ بندہ محدود،بندے کے الفاظ محدود،بندے کی طاقتیں محدود،خدا کے محامد غیر محدود شعر۔

دفتر تمام گشت بپایاں رسید عمر                     ماہمچناں در اول وصف توماند ہ ایم

نوٹ:جسے یاد نہ ہو وہ "رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا"الخ پڑھ لیا کرے بلکہ تین بار "اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ" کہہ دے تو بھی جائز ہے۔ (مرقاۃ)

الفصل الثالث

تیسری فصل

1277 -[24]

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قِيلَ لَهُ: هَلْ لَكَ فِي أَمِير الْمُؤمنِينَ مُعَاوِيَة فَإِنَّهُ مَا أَوْتَرَ إِلَّا بِوَاحِدَةٍ؟ قَالَ: أَصَابَ إِنَّهُ فَقِيهٌ

وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: أَوْتَرَ مُعَاوِيَةُ بَعْدَ الْعِشَاءِ بِرَكْعَةٍ وَعِنْدَهُ مَوْلًى لِابْنِ عَبَّاسٍ فَأَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ: دَعْهُ فَإِنَّهُ قَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

 

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ ان سے کہا گیا آپ کو امیر المؤمنین  معاویہ میں میلا ن ہے   کہ وہ تو ایک ہی رکعت وتر پڑھتے ہیں ۱؎ تو  آپ نے فرمایا ٹھیک کرتے ہیں وہ فقیہ عالم ہیں۲؎ اور ایک روایت میں ہے کہ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں امیر معاویہ نے عشاء کے بعد ایک رکعت و تر پڑھی ا ن کے پاس حضرت ابن عباس کے غلام تھے انہیں وہ حضرت ابن عباس کے پاس گئے انہیں یہ خبر دی فرمایا انہیں چھوڑ دو وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ہیں ۳؎(بخاری)

۱؎ یعنی امیر معاویہ اتنی بڑی غلطی کرتے ہیں کہ وتر تین رکعت کے بجائے ایک رکعت ہی پڑھتے ہیں پھر بھی آپ کو ان سے محبت ہے آپ انہیں سمجھاتے نہیں۔

۲؎ یعنی ایک رکعت وتر پڑھنا ہے مگر امیر معاویہ عالم ہیں،فقیہ ہیں،مجتہد کو غلطی پر ثواب بھی ملتا ہے لہذا نہ میں انہیں سمجھا سکتا ہوں اور نہ تم ان پر اعتراض کرو۔

۳؎ یعنی اگرچہ ان کا یہ عمل غلط ہے لیکن بزرگوں خصوصًا صحابہ کی غلطی پکڑنا اور ان پر زبان طعن دراز کرنا سخت غلطی ہے،یہ حدیث امام اعظم کی بہت قوی دلیل ہے کہ وتر تین رکعت ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ تین رکعت وتر پر صحابہ کا اجماع ہوچکا تھا صرف امیر معاویہ کسی غلط فہمی سے یا بے خبری سےا یک رکعت وتر پڑھتے تھے اسی لیئے حضرت ابن عباس کے خادم کو اس پر تعجب ہوا  اور انہوں نے حصرت ابن عباس سے شکایت کی اور حیرت کی کہ آپ انہیں مسئلہ بتاتے کیوں نہیں۔حضرت ابن عباس نے یہ نہ کہا کہ مسئلہ یا ان کا فعل صحیح ہے بلکہ صرف یہ فرمایا کہ وہ بوجہ صحابی اور مجتہد ہونے کے ملامت کے لائق نہیں اور نہ اس بنا پر ان سے قطع تعلق کرنا جائز۔

1278 -[25]

وَعَن بُرَيْدَة قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْوَتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا الْوَتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا الْوَتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے سنا کہ وتر لازم ہیں تو جو وتر نہ پڑھے وہ ہم سے نہیں وتر لازم ہیں جو وتر نہ پڑھے وہ ہم سے نہیں وتر لازم ہیں تو جو وتر نہ پڑھے وہ ہم سے نہیں ۱؎(ابوداؤد)

 



Total Pages: 519

Go To