Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۲؎ حضرت ابوبکر صدیق اول شب میں وتر پڑھ لیتے تھے اور حضرت عمرفاروق آخر شب میں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ابوبکر تم احتیاط پر عمل کرتے ہو اور اے عمر تم قوت و اجتہاد پر۔خیال رہے کہ یہاں فرشتوں سے مراد رحمت کے فرشتے ہیں جو آخر شب میں اﷲ کی رحمتیں لے کر اترتے ہیں،بعض شارحین نے فرمایا کہ مشہود کے معنی ہیں عظمت کی گواہی دی ہوئی۔

1261 -[8]

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مِنْ كُلَّ اللَّيْلِ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ وَأَوْسَطِهِ وَآخِرِهِ وَانْتَهَى وَتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ ر سول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  نے رات کے ہر حصہ میں وتر پڑھی ہے اول شب میں درمیانی میں آخری میں اور آپ کے وتر سحر پر منتہی ہوئے ۱؎ (مسلم، بخاری)

۱؎ سحر سے مراد رات کا آخری چھٹا حصہ ہے یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی عشاء کے وقت وتر پڑھ لیئے اور کبھی عشاء پڑھ کر سوئے اور درمیان رات جاگ کر تہجد و وتر پڑھے مگر آخری عمل یہ رہا کہ صبح صادق کے قریب تہجد کے بعد وتر پڑھے،مسلمان جس پر عمل کرے سنت کا ثواب پائے گا اگرچہ آخر رات میں پڑھنا افضل ہے۔

1262 -[9] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ: صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّام من كل شهر وركعتي الضُّحَى وَأَن أوتر قبل أَن أَنَام

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں مجھے میرے محبوب نے تین چیزوں کی وصیت کی ہر ماہ میں تین روزوں کی  ۱؎ چاشت کی دو رکعتوں کی اور یہ کہ سونے سے پہلے وتر پڑھا کروں ۲؎(مسلم، بخاری)

۱؎ شروع مہینہ میں ایک روزہ ،درمیان میں ایک ،آخر میں ایک ،یا ہر عشرہ کے شروع میں ایک روزہ یا  ہر مہینہ کی تیرھویں چودھویں پندرھویں کے روزے تیسرا  احتمال زیادہ قوی ہے۔

۲؎ اس لیئے کہ آپ بہت رات گئے تک دن کی سنی ہوئی حدیثیں یاد کرتے تھے۔دیر میں سوتے اس لیئے تہجد کو اٹھنا مشکل ہوتا۔(مرقاۃ و اشعہ)اس سے معلوم ہوا کہ دینی طلبہ کے لیئے یہی بہتر ہے کہ رات گئے تک علم میں محنت کریں اور وتر عشاء کے ساتھ پڑھ لیا کریں ان کے لیئے سبق یاد کرنا تہجد سے افضل ہے۔خیال رہے کہ بعض صحابہ کرام خصوصًا ابوہریرہ قرآن کی طرح احادیث یاد کرتے تھے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1263 -[10]

عَن غُضَيْف بن الْحَارِث قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ أَمْ فِي آخِرِهِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي آخِرِهِ قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً قُلْتُ: كَانَ يُوتِرُ أَوَّلَ اللَّيْلِ أَمْ فِي آخِرِهِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا أَوْتَرَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا أَوْتَرَ فِي آخِرِهِ قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً قُلْتُ: كَانَ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ أَمْ يَخْفُتُ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا جَهَرَ بِهِ وَرُبَّمَا خَفَتَ قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ الْفَصْلَ الْأَخِيرَ

روایت ہے حضرت غضیف ابن حارث سے ۱؎  فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ سے عرض کیا کہ فرمایئے تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت اول شب میں کرتے تھے یا آخر میں فرمایا اکثر اول شب میں غسل کرتے تھے اور اکثر آخر میں ۲؎ میں نے کہا اﷲ اکبر خدا کا شکر ہے اس کام میں گنجائش رکھی میں نے عرض کیا کہ اول رات میں وتر پڑھتے تھے یا آخر میں فرمایا بارہا اول رات میں وتر پڑھتے تھے بار ہا آخر میں ۳؎ میں نے کہا اﷲ اکبر خدا کا شکر ہے جس نے اس معاملہ میں گنجائش دی میں نے عرض کیا کہ بلند قرأت کرتے تھے یا آہستہ فرمایا بارہا بلند کرتے تھے بارہا آہستہ ۴؎ میں نے کہا اﷲ اکبر خدا کا شکر ہے جس نے اس میں گنجائش دی۔(ابو داؤد)اور ابن ماجہ نے آخری بات روایت کی۔

 



Total Pages: 519

Go To