Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۲؎ یہ ترجمہ نہایت موزوں ہے یعنی اگر تم خود ملال و مشقت والے کاموں کو اپنے اوپر لازم کرلو کہ روزانہ سو رکعت پڑھنے یا ہمیشہ روزہ رکھنے کی نذر مان لو تو تم پر یہ چیزیں واجب ہوجائیں گی، پھر تم مشقت میں پڑ ھ جاؤگے مگر یہ مشقت رب نے نہ ڈالی تم نے خود اپنے پر ڈالی یہ معنی نہیں کہ اﷲ ملال میں نہیں پڑتا حتی کہ تم ملال میں پڑو رب تعالٰی ملال کرنے سے پاک ہے۔ پہلا تملوا باب افعال سے ہے ،دوسرا نصرسے یہ حدیث دین و دنیا کے مشاغل کو شامل ہے درمیانی محنت کرنے والے ہمیشہ کامیاب ہیں۔

1244 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ وَإِذَا فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ)

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے ہر شخص بقدر ذوق نماز پڑھے جب تھک جائے تو بیٹھ جائے  ۱؎(مسلم بخاری)

۱؎ یعنی اگر کھڑے کھڑے نوافل پڑھتے تھک گیا ہے تو بیٹھ کر پڑھے اس بیٹھنے میں ان شاءاﷲ قیام کا ثواب ملے گا یا اگر نماز نفل سے تھک گیا ہے تو کچھ دیر آرام کے لیئے بیٹھ جائے اس آرام میں نفل کا ثواب ملے گا کیونکہ یہ آرام آیندہ نفل کی تیاری کے لیئے ہے،جو عادت عبادت کی تیاری کے لیئے وہ عبادت ہے اس لیئے کہا جاتا ہے کہ عالم کی نیند عبادت ہے کہ اس کے ذریعہ وہ بہت سے کام کرے گا۔(مرقاۃ)

1245 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لَا يدْرِي لَعَلَّه يسْتَغْفر فيسب نَفسه»

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتے ہوئے اونگھے تو سولے ۱؎ حتی کہ نیند جاتی رہے کیونکہ جب کوئی اونگھتے نماز پڑھے گا تو نہیں جانے گا کہ شاید دعائے مغفرت کرے تو اپنے کو بددعا دے لے ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎  معلوم ہوا کہ اونگھتے ہوئے نماز پڑھنا مکروہ و ممنوع ہے کہ جس کی وجہ آگے آرہی ہے۔

۲؎ مثلًا اونگھتے ہوئے بجائے اِغْفِرْلِیْ کے اِعْفِرْلِیْ کہہ جائے غفر کے معنی ہیں بخشا،عفر کے معنی ہیں مٹی میں ملانا ،ذلیل و خوار کرنا اور بعض ساعتیں قبولیت کی ہوتی ہیں کہ جو زبان سے نکلے وہ ہوجاتا ہے اس لیئے بہت احتیاط چاہیئے۔خیال رہے کہ بعض دفعہ مقتدی امام کے پیچھے اونگھ جاتے ہیں انہیں منہ دھو کر کھڑا ہونا چاہیے مگر ا س اونگھ کی وجہ سے نماز باجماعت نہ چھوڑنی چاہیئے،یہاں تہجد وغیرہ نوافل کے احکام بیان ہورہے ہیں۔

1246 -[6]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا وَاسْتَعِينُوا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ وَشَيْءٍ مِنَ الدُّلْجَةِ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ دین آسان ہے  ۱؎ اور کوئی دین کو سخت نہ بنائے گا مگر دین اس پر غالب آجائے گا۲؎ لہذا ٹھیک رہو خوش خبریاں دو۳؎ اور صبح شام اندھیری رات کی نمازوں سے مددلو ۴؎(بخاری)

۱؎ یعنی اسلام آسان دین ہے اس میں یہودیت کی طرح سختیاں نہیں کہ ان کے ہاں ترک دنیا عبادت تھی ہمارے ہاں دنیا داری بھی عبادت ہے کہ سنت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہے ،رب فرماتا ہے:"یُرِیۡدُ اللہُ بِکُمُ الْیُسْرَ"۔

 



Total Pages: 519

Go To