$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

باب القصد فی العمل

عمل میں میانہ روی کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  قصد کے معنی ارادہ بھی ہیں اور درمیانی رفتار بھی یہاں دوسرے معنی میں ہے۔خیال رہے کہ فرائض و واجبات تو رب تعالٰی کی طرف سے مقرر ہیں ان میں زیادتی یا کمی ہوسکتی ہی نہیں نوافل میں بندے کو اختیار دیا گیا ہے چاہیئےکہ بندہ اتنے نفل اختیار کرے جو نباہ سکے نہ ایک دم زیادہ نہ بالکل کم اسی کا نام قصد ہے اور یہاں عمل سے مراد نفلی عمل ہیں،درمیانی چال دین و دنیا میں مفید ہے۔

1241 -[1]

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى يُظَنَّ أَنْ لَا يَصُومَ مِنْهُ وَيَصُومُ حَتَّى يُظَنَّ أَنْ لَا يُفْطِرَ مِنْهُ شَيْئًا وَكَانَ لَا تَشَاءُ أَنْ تَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْتَهُ وَلَا نَائِمًا إِلَّا رَأَيْتَهُ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم مہینے میں اتنا افطار فرماتے کہ گمان ہوتا آپ اس میں کوئی روزہ نہ رکھیں گے اور روزے رکھتے حتی کہ گمان ہوتا کہ آپ اس میں بالکل افطار نہ کریں گے ۱؎ تم رات میں آپ کو نماز پڑھتا دیکھنا نہ چاہتے مگر دیکھ لیتے اور سوتا دیکھنا نہ چاہتے مگر دیکھ لیتے ۲؎(بخاری)

۱؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف کے سوا کسی مہینہ میں سارا ماہ روزے نہ رکھتے تھے بلکہ کچھ تاریخوں میں مسلسل روزے اور کچھ مسلسل افطار۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ داؤدی کی تعریف فرمائی یعنی ہمیشہ ایک دن روزہ ایک دن افطار مگر خود اپنا یہ عمل ہے۔معلوم ہوا کہ روزہ داؤ دی سنت قولی ہے اور اس طرح روزے سنت فعلی اس کا ثواب زیادہ اس عمل کا قرب زیادہ جیسے بعد وتر نفل کھڑے ہو کر پڑھنے کا ثواب زیادہ بیٹھ کر پڑھنے کا قرب زیادہ کہ یہ عملی ہے۔

 ۲؎ یعنی نہ تمام رات سوتے تھے نہ تمام رات جاگتے تھے اول رات سوتے اور آخر رات جاگتے اور بعد تہجد پھر سوجاتے۔

1242 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى الله أدومها وَإِن قل»

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اﷲ کو پیارا عمل دائمی ہے اگرچہ تھوڑا ہو ۱؎(مسلم، بخاری)

۱؎ دائمی عمل اگرچہ تھوڑا ہو اچھا ہے اور عارضی عمل اگرچہ زیادہ ہو اتنا اچھا نہیں۔صوفیاءکرام فرماتے ہیں کہ درود و وظائف شروع کرکے چھوڑے نہیں جب زبان بند ہو اور موت آئے تب یہ اعمال بند ہوں ان کا ماخذ یہ حدیث ہے۔

1243 -[3]

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذُوا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يمل حَتَّى تملوا»

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بقدر طاقت اعمال اختیار کرو ۱؎ کیونکہ اﷲ ملال نہیں ڈالتا حتی کہ تم خود ملال میں پڑو۲؎(مسلم)

۱؎ خیال رہے کہ یہ تمام کلام نفلی عبادات کے لیئے ہے کہ بقدر طاقت شروع کرو جو نبھا سکو،فرائض تو پورے ہی پڑھنے ہوں گے لہذا حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ اگر دو وقت کی نماز ہی پڑھ سکو تو اتنی ہی پڑھ لیا کرو لہذا حدیث صاف ہے، واجبات و سنن فرائض کے تابع ہیں ان کی پابندی لازم ہے۔

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html