Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1236 -[18]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْمَفْرُوضَةِ صَلَاةٌ فِي جَوف اللَّيْل» . رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے سنا کہ فرائض کے بعد بہترین نماز درمیانی رات کی ہے  ۱؎(احمد)

۱؎ اس حدیث کی بنا پر بعض علماء نے فرمایا کہ سنن مؤکدہ سے نماز تہجد افضل ہے۔کسی نے جنید بغدادی کو بعد وفات خواب میں دیکھا پوچھا کیا گزری فرمایا عبادات ضائع ہوگئیں،اشارات فنا ہوگئے تہجد کی رکعات کام آئیں۔(اشعہ)

1237 -[19]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رجل إِلَى النَّبِي صلى فَقَالَ: إِن فلَانا يُصَلِّي بِاللَّيْلِ فَإِذَا أَصْبَحَ سَرَقَ فَقَالَ: إِنَّهُ سَيَنْهَاهُ مَا تَقُولُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا فلاں شخص رات میں تو نماز پڑھتا ہے جب صبح ہوتی ہے چوری کرتا ہے  ۱؎ فرمایا کہ اسے نماز اس چیز سے روک دے گی جو تو کہہ رہا ہے ۲؎(احمد،بیہقی شعب الایمان)

۱؎ یعنی رات کے آخری حصہ میں چوری کرتا ہے یا دن میں کم تولتا ہے یہ بھی ایک قسم کی چوری ہے۔

۲؎ یعنی نماز کی برکت سے وہ ان عیوب سے توبہ کرے گا یہ حدیث اس آیت کی شرح ہے"اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنۡکَرِ"۔خیال رہے کہ سارے صحابہ عادل ہیں کوئی فاسق نہیں یعنی گناہ پر قائم کوئی نہ رہا،بعض تو پہلے ہی سے گناہوں سے محفوظ تھے جیسے ابوبکر صدیق اور بعض سے گناہ سرزد ہوئے اور بعد میں تائب ہوگئے جیسے یہ شخص جس کی شکایت ہوئی۔یہ بھی خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو اس چور کے ہاتھ اس وقت کٹوائےکیونکہ چوری کا ثبوت شرعی نہ ہوا،نہ شکایت کرنے والے کو غیبت پر کوئی تنبیہ فرمائی کیونکہ وہ غیبت نہ کررہے تھے بلکہ ان کی اصلاح کے خواہاں تھے،جیسے شاگرد کی شکایت استاد سے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب تم فلاں گناہ کرتے ہو تو تمہیں داڑھی رکھنے یا نماز پڑھنے سے کیا فائدہ سخت غلط ہے ان شاءاﷲ یہ نیکیاں گناہ چھڑا دیں گی۔گناہ کی وجہ سے نیکیوں کو نہ چھوڑو بلکہ نیکیوں کی وجہ سے گناہ چھوڑ دو۔

1238 -[20]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذا أَيْقَظَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّيَا أَوْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ جَمِيعًا كُتِبَا فِي الذَّاكِرِينَ وَالذَّاكِرَاتِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت ابوسعید و ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب کوئی شخص رات میں اپنے گھر والوں کو جگائے پھر وہ دونوں یا وہ اکیلا دو رکعتیں پڑھ لے تو وہ ذکر کرنے والوں یا والیوں میں لکھے جائیں گے ۱؎ (ابوداؤد،ابن ماجہ)

۱؎ یعنی تہجد کی دو رکعتیں پڑھنے کی برکت سے تمام رات کی عبادت کا ثواب ملتا ہے ا ور اس وقت تھوڑے ذکر کی برکت سے انسان ہمیشہ ذکر کرنے والوں کے زمرے میں آجاتا ہے۔حدیث شریف میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے "وَ الذّٰکِرِیۡنَ اللہَ کَثِیۡرًا وَّالذّٰکِرٰتِ اَعَدَّ اللہُ لَہُمۡ" الآیہ۔

1239 -[21]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَشْرَافُ أُمَّتَيْ حَمَلَةُ الْقُرْآنِ وَأَصْحَابُ اللَّيْلِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میری امت کے بہترین لوگ قرآن اٹھانے والے اور شب بیداری کرنے والے ہیں ۱؎(بیہقی شعب الایمان)

 



Total Pages: 519

Go To