Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

ریاء سے دور ہے اور تمام نمازوں کی زینت اس لیئے اس کے پڑھنے والے کو مزین دریچے دیئے گئے۔خلاصہ یہ ہے کہ جودو سجود کا اجتماع بہترین وصف ہے۔شعر

شرف مرد بخود است و کرامت بسجود           ہر کہ ایں ہر دوندا رعد مش بہ زوجود

1233 -[15]

وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ عَنْ عَلِيٍّ نَحْوَهُ وَفِي رِوَايَتِهِ: «لمن أطاب الْكَلَام»

اور ترمذی نے حضرت علی سے اس کی مثل روایت کی اور ایک روایت میں ہے جو اچھا کلام کرے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

1234 -[16] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا تَكُنْ مِثْلَ فُلَانٍ كَانَ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ فَتَرَكَ قيام اللَّيْل»

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو ابن عاص سے فرماتے ہیں مجھ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عبداﷲ فلاں کی طرح نہ ہوناجو رات کو اٹھتا تھا پھر رات کا اٹھنا چھوڑ دیا ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎  بلاعذر محض سستی کی وجہ سے۔اس سے معلوم ہوا کہ تہجد گزار کو تہجد چھوڑنا بہت برا ہے۔اشعہ اللمعات میں ہے کہ عبداﷲ ابن عمرو تمام رات عبادت کرتے تھے ان کے والد اس سے منع کرتے تھے مگر نہ مانتے تھے۔چنانچہ ان کے والد نے بارگاہ رسالت میں ان کی شکایت کی تب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا۔مقصد یہ ہے کہ تم سے یہ عبادت نبھ نہ سکے گی اور تم اصل تہجد بھی چھوڑ بیٹھو گے۔شیخ ابن حجر فرماتے ہیں کہ بہت تلاش کے باوجود ان صاحب کا نام نہ ملا جو یہ قیام چھوڑ بیٹھے تھے۔

1235 -[17]

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: " كَانَ لِدَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنَ اللَّيْلِ سَاعَةٌ يُوقِظُ فِيهَا أَهْلَهُ يَقُولُ: يَا آلَ دَاوُدَ قُومُوا فَصَلُّوا فَإِنَّ هَذِهِ سَاعَةٌ يَسْتَجِيبُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا الدُّعَاءَ إِلَّا لِسَاحِرٍ أَوْ عشار ". رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت عثمان ابن ابوالعاص سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ داؤد علیہ السلام کی رات میں ایک گھڑی ایسی تھی جس میں اپنے گھر والوں کو جگاتے تھے ۱؎ فرماتے تھے اے داؤد کے گھر والو اٹھو نماز پڑھ لو کیونکہ یہ وہ گھڑی ہے جس میں اﷲ تعالٰی جادو گر یا محصولیوں کے سوا سب کی دعا قبول فرماتا ہے۲؎(احمد)

۱؎  یعنی ساری بیویوں اور سارے بچوں کو کیونکہ لفظ اہل ان سب کو شامل ہے۔

۲؎ چونکہ یہ دونوں بڑے ظالم ہوتے ہیں کہ جادو گر لوگوں پر جانی ظلم کرتا ہے اور چنگی والے ٹیکس وصول کرنے والے مالی ظلم بہت کرتے ہیں اور ان کے ذمہ حقوق العباد بہت ہوتے ہیں اس لیئے ان کی تہجد کے وقت مانگی ہوئی دعا بھی قبول نہیں ہوتی کیونکہ لوگوں کی بددعائیں ان کے پیچھے پڑی ہوتی ہیں۔صوفیاء فرماتے ہیں دعا کی قبولیت چاہتے ہو تو بددعائیں نہ لو،عُشَّار عشر سے بنا،بمعنی پیداوار کا دسواں حصہ جو حکومت لیتی ہے۔

1236 -[18]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْمَفْرُوضَةِ صَلَاةٌ فِي جَوف اللَّيْل» . رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے سنا کہ فرائض کے بعد بہترین نماز درمیانی رات کی ہے  ۱؎(احمد)

 



Total Pages: 519

Go To