Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1230 -[12]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَصَلَّتْ فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ. رَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا فَصَلَّى فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ المَاء» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ اس شخص پر رحم کرے جو رات میں اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی جگائے کہ وہ بھی پڑھ لے اگر وہ انکار کرے تو اس کے منہ پر پانی چھڑک دے اﷲ اس عورت پر رحم کرے جو رات میں اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنے خاوند کو بھی جگائے کہ وہ بھی پڑھ لے اگر وہ نہ مانے تو اس کے منہ پر پانی چھڑک دے  ۱؎(ابوداؤد،نسائی)

۱؎  بیوی کا یہ پانی چھڑکنا خاوند کی نافرمانی یا اس کی بے ادبی نہیں بلکہ اسے نیکی کی رغبت دینا اور اس پر امداد کرنا رب تعالٰی فرماتا ہے: "وَتَعَاوَنُوۡا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی"۔اس سے معلوم ہوا کہ کسی سے جبرًا نیکی کرانا ممنوع نہیں بلکہ مستحب ہے۔(مرقاۃ) خیال رہے کہ لوگ عوام کی بزرگوں کی مشائخ کی دعا لینے کے لیئے بڑے بڑے پاپڑ بیلتے ہیں۔دوستو اگر جناب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا لینی ہے تو خود بھی تہجد پڑھو اور اپنی بیویوں کو بھی پڑھاؤ۔بعض روایات میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اﷲ اس جوڑے کو ہرا بھرا رکھے۔

1231 -[13]

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَسْمَعُ؟ قَالَ:«جَوْفُ اللَّيْلِ الآخر ودبر الصَّلَوَات المكتوبات» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں عرض کیا گیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی دعا زیادہ سنی جاتی ہے فرمایا آخری رات کے درمیان کی اور فرض نمازوں کے پیچھے ۱؎(ترمذی)

۱؎  آخر صفت لیل کی ہے نہ کہ جوف کی آخری تہائی حصہ اس تہائی کا درمیانی وقت یعنی رات کا چھٹا حصہ فرض نمازوں سے مراد نماز پنجگانہ ہے خواہ ان میں فرضوں کے بعد دعا کرے یا سنتوں اور نوافل سے فارغ ہو کر،بعض بزرگ اہم دعائیں فرضوں کے بعد ہی مانگ لیتے ہیں پھر سنتیں و نفل پڑھتے ہیں۔

1232 -[14]

وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا أَعَدَّهَا اللَّهُ لِمَنْ أَلَانَ الْكَلَامَ وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ وَتَابَعَ الصِّيَامَ وَصَلَّى بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نيام» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان

روایت ہے حضرت ابو مالک اشعری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جنت میں ایسے دریچے ہیں کہ جن کا باہر اندر سے اور اندر باہر سے دیکھاجاتا ہے ۱؎ یہ اﷲ نے ان کے لیئے بنائے جو بات نرم کریں اور کھانا کھلائیں ۲؎ اور متواتر روزے رکھیں اور جب لوگ سوتے ہوں تو رات میں نماز پڑھیں۳؎(بیہقی شعب الایمان)

۱؎  یعنی ان کی دیواریں اور کواڑ ایسے صاف اور شفاف کہ نگاہ کو نہیں روکتے جس کا نمونہ کچھ دنیا میں شیشے کی دیواروں اور کواڑوں میں نظر آتا ہے،اس شفافی میں اس کے حسن و خوبی کی طرف اشارہ ہے۔

۲؎  یعنی وہ دریچے ان لوگوں کے لیئے ہیں جن میں یہ چار صفات جمع ہوں ہر مسلمان دوست یا دشمن سے نرمی سے بات کرنا،کفار سے سخت کلامی بھی عبادت ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ"اور فرماتا ہے:"وَلْیَجِدُوۡا فِیۡکُمْ غِلْظَۃً" ہر خاص و عام کو کھانا کھلانا اس میں مشائخ کے لنگروں کا ثبوت ہے،بعض بزرگوں کے ہاں چرند و ں پرندوں کو بھی دانا پانی دیا جاتا ہے وہ طعام کو بہت عام کرتے ہیں۔

۳؎  یعنی ہمیشہ روزے رکھیں سوا ان پانچ دنوں کے جن میں روزہ حرام ہے یعنی شوال کی یکم اور ذی الحجہ کی دسویں تا تیرھویں یہ حدیث ان لوگوں کی دلیل ہے جو ہمیشہ روزے رکھتے ہیں،بعض نے فرمایا کہ اس کے معنی ہیں ہر مہینہ میں مسلسل تین روزے رکھے،چونکہ نماز تہجد



Total Pages: 519

Go To