Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۳؎ اس پر تجربہ بھی گواہ ہے کہ تہجد کی برکت سے گناہوں کی عادت چھوٹ جاتی ہے حضور سچے ان کی ہر بات سچی صلی اللہ علیہ وسلم۔

1228 -[10]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ يَضْحَكُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ الرَّجُلُ إِذَا قَامَ بِاللَّيْلِ يُصَلِّي وَالْقَوْمُ إِذَا صَفُّوا فِي الصَّلَاةِ وَالْقَوْمُ إِذَا صَفُّوا فِي قِتَالِ الْعَدُوِّ. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السّنة

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تین شخص ہیں جن سے اﷲ راضی ہوتا ہے آدمی جب رات میں نماز پڑھنے کھڑا ہو اور قوم جب کہ نماز میں صف باندھیں اور قوم جب کہ دشمن کی جنگ میں صف آرا ہوں ۱؎(شرح سنہ)

۱؎  اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ تہجد تنہا پڑھنا چاہیے اور فرائض نماز و جہاد جماعت سے،چونکہ یہ کام اﷲ کو پیارے ہیں لہذا ان کے لیئے اٹھنا بھی اسے پیارا اور اٹھنے والے بھی۔ظاہر یہ ہے کہ یہاں قیام سے مراد تہجد کے لیئے اٹھنا ہے لہذا اس وقت جاگنا،ضروریات سے فارغ ہونا،وضو وغیرہ کرنا سبھی خدا کو پیارا ہے۔

1229 -[11]

وَعَن عَمْرو بن عبسة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الرَّبُّ مِنَ الْعَبْدِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ الْآخِرِ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ مِمَّنْ يَذْكُرُ اللَّهَ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ فَكُنْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ  غَرِيب إِسْنَادًا

روایت ہے حضرت عمرو ابن عبسہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ رب بندے سے آخری رات کے وسط میں بہت قریب ہوتا ہے  ۱؎ اگر تم یہ کرسکو کہ اس وقت اﷲ کے ذاکرین میں سے بنو تو بن جاؤ ۲؎ (ترمذی )اور فرمایا کہ یہ حدیث اسناد میں حسن صحیح غریب ہے ۳؎

۱؎ یعنی رب کی رحمت اور اس کی رضا رات کے آخری چھٹے حصے میں بندے سے بہت قریب ہوتی ہے۔خیال رہے کہ یہاں قربت اوقات مراد ہے اور سجدے سے قرب احوال مرقاۃ۔لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ رب بندے سے سجدے میں زیادہ قریب ہوتا ہے اگر اس وقت بندہ سجدے میں گرا ہو تو اسے وقت کا قرب بھی حاصل ہوگا اور حال کا بھی۔

۲؎  اس میں خطاب حضرت عمرو ابن عبسہ سے ہے اور ان کے ذریعہ ہم سب لوگوں سے۔شیخ نے اشعۃ اللمعات میں لکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان عمرو ابن عبسہ کے ایمان لانے کے وقت تھا،آپ بیت اللہ شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تہجد دیکھ کر فدا ہوگئے تھے اور اسی دم ایمان لے آئے آپ چوتھے مومن ہیں شعر۔

دیوانہ کنی ہر دو جہانش بخشی         دیوانہ تو ہر دو جہاں راچہ کند

۳؎  یعنی اس حدیث کی چند اسنادیں ہیں:بعض اسنادوں میں غریب ہے،بعض میں حسن،بعض میں صحیح،مرقاۃ نے یہاں فرمایا کہ غرابت اور صحت میں منافات نہیں۔

1230 -[12]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَصَلَّتْ فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ. رَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا فَصَلَّى فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ المَاء» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ اس شخص پر رحم کرے جو رات میں اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی جگائے کہ وہ بھی پڑھ لے اگر وہ انکار کرے تو اس کے منہ پر پانی چھڑک دے اﷲ اس عورت پر رحم کرے جو رات میں اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنے خاوند کو بھی جگائے کہ وہ بھی پڑھ لے اگر وہ نہ مانے تو اس کے منہ پر پانی چھڑک دے  ۱؎(ابوداؤد،نسائی)

 



Total Pages: 519

Go To