$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

بھی کیا کچھ تاریخوں میں مسلسل روزے،کچھ میں مسلسل افطار تا کہ امت پر آسانی ہو،نیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم ابوالوقت ہیں جو عمل کریں وہ افضل ہے۔رات کی ہر ساعت کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نفل سے شرف حاصل ہوا اور مہینہ کی ہر تاریخ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے سے عزت ملی۔

1226 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ تَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيُحْيِي آخِرَهُ ثُمَّ إِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى أَهْلِهِ قَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ يَنَامُ فَإِنْ كَانَ عِنْدَ النداء الأول جنبا وثب فَأَفَاضَ عَلَيْهِ الماس وَإِنْ لَمْ يَكُنْ جُنُبًا تَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ صلى رَكْعَتَيْنِ "

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اول رات سوتے تھے اور آخر رات جاگتے تھے پھر اگر آپ کو اپنے اہل سے حاجت ہوتی تو حاجت پوری فرماتے پھر سو جاتے ۱؎ پھر اگر پہلی اذان کے وقت جنابت میں ہوتے جلدی کھڑے ہو کر اپنے پر پانی بہاتے اور اگر جنبی نہ ہوتے تو نماز کے لیئے وضو کرتے پھر دو رکعتیں پڑھتے ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎  اس سے معلوم ہوا بیوی سے قربت کا بہترین وقت آخری رات ہے یعنی بعد تہجد کہ اس وقت معدہ خالی ہوتا ہے بھرے پیٹ صحبت نقصان دہ ہے اور اس وقت کی قربت سے جو اولاد ہوگی وہ ان شاءاﷲ نیک و صالح ہوگی خصوصًا جب تہجد کے بعد قربت ہو صحبت صرف شہوت پوری کرنے کے لیئے نہیں بلکہ اس میں اور بھی مصلحتیں ہیں۔ظاہر یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرکے سوتے تھے جیسا کہ دیگر روایات میں ہے اور یہ عمل بھی دائمی نہ تھا بلکہ کبھی غسل کرکے سوتے تھے یہ عمل بیان جواز کے لیئے ہے اور وہ عمل بیان استحباب کے لیئے۔

۲؎  یہ سنت فجر کی رکعتیں تھیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں ادا فرماتے تھے اور فجر کے فرض باجماعت مسجد میں یہ ہی سنت ہے اور اگر بعد سنت فجر ستر بار استغفار پڑھ لی جائے تو بہت ہی بہتر ہے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1227 -[9]

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ فَإِنَّهُ دَأْبُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ وَهُوَ قُرْبَةٌ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ وَمَكْفَرَةٌ لِلسَّيِّئَاتِ وَمَنْهَاةٌ عَنِ الْإِثْمِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابوامامہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم رات میں اٹھنا لازم پکڑ لو ۱؎ کیونکہ یہ تم سے پہلے نیکوں کا طریقہ ہے ۲؎  اور رب کی طرف قربت کا ذریعہ، گناہوں کو مٹانے والا اور آیندہ گناہوں سے بچانے والا ۳؎ (ترمذی)

۱؎ یہ امر وجوب کے لیئے نہیں بلکہ تاکید کے لیئے ہے تہجد واجب یا فرض نہیں بلکہ سنت مؤکدہ ہے وہ بھی علی الکفایہ۔

۲؎ یعنی گزشتہ انبیاء و اولیاء کا طریقہ ہے لہذا یہ فطرت ہے۔معلوم ہوا کہ سارے انبیاء و اولیاء نے تہجد پڑھی اور خاص دعائیں اس وقت مانگیں،دیکھو یعقوب علیہ السلام نے اپنے فرزندوں سے کہا کہ ابھی نہیں بلکہ اور وقت تمہاری مغفرت کی دعا کروں گا یعنی تہجد پڑھ کر۔اس حدیث میں اشارۃً فرمایا گیا کہ جو تہجد نہ پڑھے وہ کامل صالح نہیں۔خیال رہے کہ ہم کیا اور ہماری تہجد کیا ہاں اس میں اچھوں کی نقل ہے اﷲ تعالٰی اس اصل کی طفیل نقل کو بھی قبول کرلیتا ہے۔جو صاحب تہجد پڑھیں انہیں فقیر کی وصیت ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے پڑھا کریں وہاں سے بہت ملے گا۔

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html